Featured

تاریخ گمنام ستیوں کا ڈیرہ یا شاہی قبرستان

  1. ستیوں کا ڈیرہ یا شاہی قبرستان

گسکھر میں دریائے سندھ کے کنارے ایک اونچی پہا پر قائم ایک قدیم گ جہاں اب بھی سیاحوں کے لیے ایک کشش رکھتا ہے وہیں اس قبرستان کے دورے کے بعد ایک معمہ بھی آپ کے ذہن میں سوال بن کر ٹھہر جاتا ہے کہ اس تاریخی قبرستان میں کون دفن ہے۔
سکھر سے روہڑی ریلوے سٹیشن کی طرف جاتے ہوئے جب دریائے سندھ پار کریں ہیں تو ایک خوبصورت تاریخی قبرستان مسافروں کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے جسے مقامی لوگ ’ستین جو آستھان‘ یا ستیوں کا ڈیرہ کہتے ہیں۔
اس قبرستان کے بارے میں عام طور پر مشہور ہے کہ اس پہاڑی پر سات عرب کنواری بہنوں نے دشمن لشکر سے اپنی آبرو بچانے کے لیے پناہ لے رکھی تھی۔انہوں نے اپنے رب سے انہیں غیر مردوں کے ہاتھ لگنے سے قبل مار دینے کی دعا کی تھی اور ان کی دعا عین وقت پر قبول ہوگئی تھی۔
ستیوں کا ڈیرہ کے حوالے سے اس سے ملتی جلتی کئی کہاوتیں سننے کو ملتی ہیں جن میں مرکزی کردار سات کنواری بہنوں کا ہوتا ہے مگر محققین ان باتوں کو ایسے مفروضے قرار دیتے ہیں جن میں کوئی تاریخی صداقت نہیں ہوتی ۔
آثار قدیمہ کے ماہر اور تاریخ دان بدر ابڑو کا کہنا ہے کہ کنواری اور سات بہنیں تو دُور اس قبرستان میں تو ایک بھی عورت کے دفن ہونے کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی تاریخی حقائق بروقت اصلاح نہ ہونے کی وجہ سے عوامی نظروں میں مسخ ہوجاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ستیوں کا قبرستان مغلیہ دور کے حکمرانوں کا خاندانی قبرستان ہے۔
بدر ابڑو کے مطابق دریائے سندھ کے کنارے چبوترے نما پہاڑی پر بنا یہ قبرستان مغل حکمرانوں میں سے شاہجہاں دور اقتدار میں بکھر(سکھر کا قدیم نام) کے گورنر میر ابوالقاسم نمکین کا شاہی قبرستان ہے۔اس دو منزلہ قبرستان میں پہلی منزل پرچند کمرے بنے ہوئے ہیں جبکہ دوسری اور آخری منزل پر سات قبریں ہیں جن پر فارسی میں عبارتیں تحریر ہیں۔
وقت کے ساتھ بدلتی روایات نے اس قبرستان کے معنی بھی بدل دیے ہیں اور ستیوں کا قبرستان اب مقامی عورتوں کے لیے منتیں مانگنے کی درگاہ بنتی جا رہی ہے۔کئی سادہ لوح عورتیں اپنی دنیاداری کے مسائل لے کر قبرستان پہنچ جاتی ہیں۔ ایک سیاح کے مطابق قبرستان میں ایسی عورتوں کا بڑھتا ہوا رش دیکھ کر لگتا ہے یہاں ماضی کے حکمراں نہیں بلکہ کوئی درویش دفن ہے۔
عام لوگوں کے ان مفروضات کو محکمہ آثار قدیمہ کی عدم دلچسپی نے بھی تقویت پہنچائی ہے۔ ستیوں کا یہ قبرستان پاکستان کے آثار قدیمہ کی فہرست میں قریباً تیس سال قبل شامل کیا گیا مگر ابھی تک یہاں آپ کو کوئی تعارفی بورڈ تک نظر نہیں آئے گا جو ان آثار کے بارے میں وصاحت کرتا ہو۔
محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے مقرر ایک چوکیدار امداد جتوئی سیاحوں کے لیے وقت کی ضرورت کے ساتھ گائیڈ بھی بن جاتے ہیں اور وہ اپنی’ادھوری معلومات‘ کی بناء پر ان مفروضات میں اضافہ کردیتے ہیں جن سے یہ قبرستان اب تک پیچھا نہیں چھڑوا سکا ہے۔
پاکستان میں آثار قدیمہ وفاقی محکمہ ہے جسے شمالی اور جنوبی سرکلز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے آثار قدیمہ جنوبی سرکل میں شامل ہیں جبکہ سرحد اور پنجاب کے قدیم آثار شمالی سرکل کاحصہ ہیں۔
ستیوں کا قبرستان قدیم زمانے سے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے اور برطانوی سیاح رچرڈ برٹن نے بھی سندھ کی سیر کے حوالے سے اپنی کتاب میں ستیوں کے قبرستان کا تذکرہ کیا ہے جس میں بھی ان عوامی مفروضات کا ذکر ملتا ہے جو اس قبرستان کی ابھی تک عام پہچان بنے ہوئے ہیں۔
قاسم علی قاسمی کا کہنا ہے کہ ستیوں کے قبرستان کا ایک عوامی تعارف تاریخی حقیقت کے برعکس بنا ہوا ہے ہم اسے تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اس قبرستان کی تمام قبروں کے اوپر لگے کتبوں پر فاسی میں ان کے نام بشمول عہدہ درج ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکھر کا یہ قبرستان کراچی میں چوکنڈی قبرستان سے مماثلت رکھتا ہے۔
آثار قدیمہ کے محققین کا کہنا ہے کہ ستیوں کا قبرستان سیاحوں اور عام لوگوں کی نظروں میں اس وقت تک ستیوں کا ڈیرہ ہی رہے گا جب تک ان آثاروں کی حقیقت کتابوں سے نکال کر عام سیاحوں تک نہیں پہنچائی جاتی۔

Best

لسانیات(زبان)کا تعارف

لسانیات۔۔۔تعارف اوراہمیت

نمبر.1.دوم۔ لسانیات کی ہر ایک نے اپنے انداز تعریف کی ھے جس کے ذریعے زبان کی ماہیت ‘تشکیل‘ارتقا‘زندگی اور موت کے متعلق آگاہی حاصل ہوتی ہے۔زبان کے بارے میں منظم علم کو لسانیات کہا جاتا ہے۔یہ ایسی سائنس ہے جو زبان کو اس کی داخلی ساخت کے اعتبار سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان میں اصوات‘خیالات‘سماجی صورتِ احوال اور معنی وغیرہ شامل ہیں ۔ لسانیات میں زبان خاص معنی میں استعمال ہوتی ہے۔اشاروں کی زبان یاتحریر لسانیات میں مرکزی حیثیت نہیں رکھتی۔لسانیات میں زبانی کلمات کے مطالعے کو تحریر کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔اس کی متعدد وجوہات ہیں ۔

۱۔انسانی تہذیب کے ارتقا میں انسان زبان پہلے بولنا شروع ہُوا اور تحریر بہت بعد میں ایجاد ہوئی۔

۲۔بچہ پہلے بولنا شروع کرتاہے اور بعد میں لکھنا سیکھتاہے۔

۳۔دنیا میں سب ہی انسان بولنا جانتے ہیں لیکن مقابلتاً کم لوگ لکھنا جانتے ہیں ۔

۴۔بہت سی ایسی چیزیں جو زبانی گفتگو میں شامل ہوتی ہیں ‘تحریر میں ظاہر نہیں کی جاتیں ۔

ابوالاعجاز حفیظ صدیقی کے بقول:

’’لسانیات(Linguistics)کااردوترجمہ ہے۔ فلالوجی (Philology)کی اصطلاح بھی لسانیات کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ لیکن فلالوجی نسبتاً ایک وسیع تر اصطلاح ہے جس کے مفہوم میں زبان کے سائنسی مطالعہ کے علاوہ ادبیات کا سائنسی مطالعہ بھی شامل ہے۔‘‘(۱)

محی الدین قادری زور نے لسانیات کو زبان کی پیدائش‘ارتقا اورموت سے متعلق علم قراردیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

’’لسانیات اس علم کو کہتے ہیں جس کے ذریعے سے زبان کی ماہیت‘ تشکیل‘ ارتقا‘ زندگی اور موت کے متعلق آگاہی ہوتی ہے۔‘‘(۲)

لسانیات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسانی زبان سے ہی متعلق ہے اس میں ہم کسی دوسرے نظام کا مطالعہ نہیں کرتے مثلاًجانور بھی آپس میں بات چیت کرتے ہیں لیکن لسانیات میں سوائے انسانی زبان کے کسی اور طرف دھیان نہیں دیا جاتا۔یہ انسان کے لیے ہی ممکن ہے کہ وہ لاتعداد جملے بول سکے اور وہ ایسے ایسے فقرے بولتا اور سمجھتا ہے جو اس سے پہلے کبھی کسی نے بولے یا سنے نہ ہوں ۔ گزشتہ نصف صدی کے عرصے سے صرف و نحو کے مسائل نئے انداز سے دیکھے جا رہے ہیں ۔ دن بدن ان مسائل کے بارے میں نت نئے نقطۂ نظر سامنے آ رہے ہیں اور لسانیات نسبتاً ایک نیا علم ہونے کے باوجود آج زبان و ادب‘ عمرانیات ‘بشریات‘نفسیات ‘ فلسفہ‘ ریاضی اور مشینی ترجمے کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں لسانیات کی مدد سے تاریخ‘تہذیب اور معاشرت کے بہت سے مسائل حل کیے جارہے ہیں ۔

لسانیات کی مدد سے مختلف نسلوں اور زبانوں کا باہمی اشتراک و اختلاف معلوم کیا جارہاہے اور اس سے قوموں اور زبانوں کی عمر کے ساتھ ساتھ ان کی جائے پیدائش کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جارہی ہیں ۔ ڈیوڈ کرسٹل لکھتے ہیں کہ

’’ہم ایک زبان کو کسی ایسے گز سے نہیں ناپ سکتے جو دوسری زبانوں سے مستعارلیاگیاہو۔اگر کوئی قبیلہ اپنی زبان میں اتنے لفظ نہیں رکھتاجتنے انگریزی میں ہیں تواس کایہ مطلب نہیں کہ وہ انگریزی سے زیادہ قدیم یاغیرمہذب زبان ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس زبان میں زیادہ الفاظ کی ضرورت نہیں ہے۔وہ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے کافی الفاظ رکھتی ہے۔اس زبان کے بولنے والے مثلاً انگریزی کی طرح تکنیکی اصطلاحوں کی اتنی بڑی تعدادمیں ضرورت محسوس نہیں کرتے۔اگر کوئی قبیلہ معاشی ترقی کے زیرِ اثرتکنیکی چیزوں کے ربط میں آئے گا تو نئے الفاظ اختراع کر لیے جائیں گے یامستعارلے لیے جائیں گے۔اس طرح ان کاکام چل سکتاہے۔۔۔۔زبان اپنے بولنے والوں کی سماجی ترقی کے قدم بہ قدم چلتی ہے۔‘‘(۳)

لسانیات کے ذریعے یہ بھی معلوم کیاجاتاہے کہ کس قوم یا زبان نے کس علاقے کا سفر کیا اور وہ اثر اندازی اور اثر پذیری کے عمل سے کس حد تک دوچار رہی ہے۔قدیم اور مردہ زبانوں کے رسم الخط اور ادب کی تفہیم بھی لسانیات کی مدد سے ممکن ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ جن زبانوں کا اپنا کوئی رسم الخط نہیں ‘لسانیات انھیں رسم الخط بھی عطا کرتی ہے اور موجودہ رسم الخط میں موجود خامیوں کو دور کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔لسانیات ایسے نشانات وضع کرتی ہے جن کی مدد سے عبارت کو دوسری زبان میں آسانی سے لکھا جاسکتاہے۔اس طرح ہر زبان اب حقیقی تلفظ کے ساتھ لکھی جاسکتی ہے۔لسانی وادبی تحقیق میں مخطوطات کا زمانی تعین بہت اہمیت رکھتاہے۔لسانیات کے بعض اصولوں کی مدد سے مخطوطات کے زمانی تعین میں بھی مدد ملتی ہے اور اس کی مدد سے ایسے قواعد بھی بنائے جارہے ہیں جن کے ذریعے کسی دوسری زبان کو بہت کم عرصہ میں سیکھاجاسکتاہے۔

لسانیات کی افادیت کے پیشِ نظر ترقی یافتہ ممالک میں اسے خاطر خواہ اہمیت دی جارہی ہے اور اسے ریاضی اور شماریات کے اندازمیں وضع کیاجارہاہے۔اسے افواج میں فوجی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے بھی استعمال کیاجارہاہے اور اس کے ذریعے خفیہ الفاظ بنانے اور دوسروں کے خفیہ الفاظ پڑھنے کا کام بھی لیاجاتاہے۔مغربی ممالک میں لسانیات کو کمپیوٹر پروگرام میں شامل کیاجارہاہے اور اس کی مدد سے ترجمہ کرنے کی ایسی مشین بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جو ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرسکے۔اس طرح اب ایک زبان کا مختلف زبانوں میں مشین کے ذریعے چند ثانیوں میں ترجمہ ہوسکے گا۔

آج کے دور میں لسانیات نے زبان کے تاریخی جائزوں کی سرحدوں سے باہر نکل کر ریاضی اور سائنس کی اعلیٰ منزلوں تک رسائی حاصل کرلی ہے۔اب زبانیں اپنے مخصوص دائروں میں محدود نہیں رہ سکتیں ۔ تہذیبی انقلاب‘لسانی تبدیلیوں اور صنعت وسائنس کی بے پناہ ترقی میں انھیں اپنے لیے جگہ متعین کرنی ہوگی۔ماضی کی طرف نگاہ رکھنا ضروری سہی لیکن زمانے کی رفتار کے پیشِ نظر مستقبل سے صرفِ نظر نہیں کیاجاسکتا۔زندہ رہنے کے لیے مستقبل کے تقاضوں کو قبول کرنا ہوگا۔ہم نے اردو کے آغاز کے نظریوں کو سب کچھ سمجھ لیا ہے جبکہ فروغِ لسانیات کی طرف سنجیدگی سے غوروخوض کی ضرورت ہے۔ایچ ای سی کے زیرِ نگرانی ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے جو لسانیات کو علمی مدارج پر فروغ دے۔اس ادارے کے تحت لسانیات کی تدریس پر توجہ دینی چاہیے اور یہ ادارہ ایسی کتب کی اشاعت کو یقینی بنائے جن سے لسانیات اور اس کی افادیت زبان و ادب کے طالب علموں پر اُجاگر ہوسکے۔

لسانیاتی حوالے سے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ بہروں کے لیے ایک قسم کا بصری آلہ تیار کیاجائے جو سمعی صوتیات کی مدد سے حاصل کردہ معلومات پر مشتمل ہو۔ایسی مشین پہلے ہی تیار ہوچکی ہے جو تکلمی آوازوں کی تصویر تیار کرسکتی ہے اگرچہ یہ تصویر پیچیدہ ہوتی ہے اور اسے پڑھنابھی مشکل ہوتاہے۔اس مشین کو Sound Spectragraphکہتے ہیں ۔ اگر مختلف آوازوں کی تصاویر آسانی سے پہچانی جانے والی ترتیب وار شکلوں کے سلسلوں میں آسکیں تو تکلّم کو براہِ راست تحریر میں لایاجاسکتاہے۔ہم ایسی مشین کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں جس میں مائیکروفون اور پردہ لگا ہومائیک پر بات کرنے کے بعد پردے پر تصویر آجائے جس سے بہرہ فرد نئے حروفِ تہجی سیکھنے کے بعد گفتگو کو براہِ راست پڑھ کر فوراً سمجھ سکتاہے۔اس تکنیک کو کاروباری منصوبوں میں بھی استعمال کیاجاسکتاہے لیکن اس کے لیے مزید تحقیقاتی کام کی ضرورت ہے۔

پروفیسرگیان چندجین کے بقول:

’’لسانیات روایتی قواعدکی اصطلاحوں کونہیں اپناسکتی کیونکہ لسانیات کی اصطلاحیں بالکل وہی مفہوم پیش نہیں کرتیں۔ تکنیکی مطالعے میں اصطلاحیں ناگزیرہیں ۔ ‘‘(۴)

لسانی فردیات میں فرد کے جسمانی آغازوارتقاکے حوالے سے بحث کی جاتی ہے۔ اس میں اس امرکاجائزہ لیاجاتاہے کہ انسانی شیرخوارزبان کا اکتساب کیسے کرتاہے اور آخرِ عمرتک اس کی زباندانی میں کیاکیاتبدیلیاں آتی ہیں ۔ ابتدامیں بچہ اپنی زبان کے الفاظ سنتاہے پھر انھیں ابتدائی کتاب میں پڑھتاہے بعدازاں دوسری زبان کے الفاظ سیکھتاہے اور بیشتر صورتوں میں انھیں کتاب میں پڑھتاہے۔یہ تحصیلی حصہ ہے۔دوسراحصہ وہ ہے جب زبان کے ذخیرۂ الفاظ کو بولایالکھاجاتاہے خواہ وہ اپنی زبان ہویاغیرزبان۔یہ تخلیقی حصہ ہے جس کے لیے زبان پر زیادہ مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔بچہ عام طورپر چار سے چھ برس کی عمر تک اپنی پہلی زبان پر قدرت حاصل کرلیتا ہے۔بہت کم بچے ایسے ہوتے ہیں جو اس عمرمیں بھی بعضآوازوں کو غلط اندازمیں بولتے ہیں ۔ چارپانچ برس کی عمر کے بعد زبان سیکھنے کے عمل میں اصل کام ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کرناہے۔لسانی فردیات میں بچے کے زبان سیکھنے کے عمل کامطالعہ کیاجاتاہے۔بڑے ہونے پر انسان کی زبان میں ہونے والی تبدیلیوں کامطالعہ لسانی تغیرات کے ذریعے کیاجاسکتاہے۔

لسانیات کا دوسرے انسانی علوم کے ساتھ بھی گہراتعلق ہے۔جن میں تاریخ‘فلسفہ‘ سماجیات‘ نفسیات‘حیاتیات‘جغرافیہ اور کمپیوٹر سائنس وغیرہ قابلِ ذکر ہیں ۔ انھیں علوم کی رعایت سے ہم لسانیات کو مختلف شاخوں میں تقسیم کرتے ہیں جیسے سماجی لسانیات ‘نفسیاتی لسانیات‘ کمپیوٹر لسانیات وغیرہ۔دنیا کا کوئی علم محض اپنی جگہ مکمل نہیں ہے۔ ایک علم کا کسی دوسرے علم سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہوتاہے مثلاً جب ہم لسانیات کوزبان کے سائنٹیفک مطالعے کانام دیتے ہیں تویہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ زبان جو کسی سماج کے اظہار کاواحد صوتی علامتی ذریعہ ہے وہ اس سماج سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ اس طرح لسانیات کا سماج سے براہِ راست تعلق قائم ہوجاتاہے۔سماج کی رعایت سے جب ہم زبان کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ سماجی لسانیات کا موضوع بن جاتاہے۔زبا ن کے مطالعے میں بولنے والوں کی نفسیات بہت اہمیت رکھتی ہے۔بڑوں کے مقابلے میں بچوں کے لسانی رویے الگ ہوتے ہیں ۔ مردوں اورعورتوں کی نفسیات میں فرق کے باعث دونوں کے لسانی رویے مختلف ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کسی شخص کو نئی زبان سکھاتے وقت جو مسائل ہمارے سامنے آتے ہیں وہ اس کے نفسیاتی مسائل کا نتیجہ ہوں گے۔اس طرح نفسیات کے تعلق سے زبان کا مطالعہ نفسیاتی لسانیات کا موضوع بن جاتاہے۔

ایک زبان مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ یہ علاقے ایسے بھی ہوسکتے ہیں جہاں دوسری زبانوں کے بولنے والے بھی رہتے ہوں ۔ جب زبان کے مطالعے میں اعدادوشمار کی کارفرمائی نظر آئے تو ایسا مطالعہ شماریاتی لسانیات کہلائے گا۔زبان سے متعلق مسائل کی نوعیت کے پیشِ نظر لسانیات کومزیدحصوں میں بھی تقسیم کیاجاسکتاہے مثلاً تاریخی لسانیات‘تقابلی لسانیات‘اطلاقی لسانیات‘توضیحی لسانیات وغیرہ۔

تاریخی لسانیات میں زبان کے ماخذ‘ارتقا اور تشکیل یابازیافت سے بحث ہوتی ہے اس میں الفاظ کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیاجاتاہے اور ان گروہوں کے مطالعے کے ذریعے زبان کے اصل وطن کی شناخت اور اس کی خصوصیات معلوم کی جاتی ہیں ۔ جس خاندان کے اصل روپ کی تحقیق کرنی ہو اس کی موجودہ زبانوں کے علاوہ پرانی شاخوں کے الفاظ بھی سامنے رکھے جاتے ہیں ۔ مفرد الفاظ کے علاوہ قدیم زبانوں کے پھیلاؤ ‘علاقے اور وجود سے بہت سے تاریخی نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں ۔ تہذیبی اور مذہبی حالات کو دریافت کرتے وقت ان سے متعلق علوم پربھی نظررکھی جاتی ہے۔

نسلی لسانیات میں بشریاتی نقطۂ نظر سے لسانیات کامطالعہ کیاجاتاہے۔اس مطالعے میں کسی نسل کی زبان کو اس کی ثقافت کے پس منظرمیں دیکھاجاتاہے۔نسلی لسانیات ماہرینِ لسانیات کے نقطۂ نظرمیں وسعت پیداکرتی ہے۔ ان کی تۃزیب میں جن اشیاکی اہمیت ہوتی ہے ان ہی کے بارے میں تفصیلات ملتی ہیں ۔ کسی معاشرے میں رشتوں کی اہمیت کے پیشِ نظر ان کے لیے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ۔ جب کوئی معاشرہ جدید تمدن اہناتاہے تو اس کی زبان میں بھی اسی قسم کے الفاظ درآتے ہیں ۔ مستعار الفاظ پر غور سے اندازہ ہوتاہے کہ کس لسانی گروہ نے کس دوسرے لسانی گروہ سے کیالیااور اسے کیادیا۔بعض لسانی خاندان وسیع علاقے پر پھیلے ہوتے ہیں جبکہ بعض بہت مختصر علاقے پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ قدیم زمانے میں ایسی زبانوں کی تعدادبہت زیادہ تھی جوکسی خاندان سے وابستہ نہیں تھیں ۔ جس کی وجہ سے زبانوں کی تعدادکافی زیادہ تھی لیکن انسانی نسلوں کی تعدادزیادہ نہیں تھی۔اس لیے یہ کہاجاسکتاہے کہ ایک ہی نسل کی مختلف اقوام مختلف زبانیں بولتی تھیں ۔ قدیم دورمیں زبانوں کی تعدادزیادہ تھی بعد ازاں مماثلت کے سبب ان کے اختلافات کم ہوگئے اور بڑے بڑے علاقوں میں مختلف خاندانوں کی زبانوں میں یکساں صوتی خصوصیات نظرآنے لگیں ۔

سماجی لسانیات میں زبان کا مطالعہ سماجی سیاق میں کیاجاتاہے۔اسے زبان کی سماجیات بھی کہاجاتاہے۔ماہرین کے نزدیک نسلی لسانیات اور سماجی لسانیات میں ویساہی تعلق ہے جوثقافتی بشریات اور سماجیات میں ہوتاہے۔ثقافتی بشریات میں معاشروں کی تہذیب کا مطالعہ کیاجاتاہے اور سماجیات میں عصری سماج کا جائزہ لیاجاتاہے۔سماج میں جتنی وسعت ہوگی سماجی لسانیات کے موضوع اتنے ہی متنوع ہوں گے۔سماجی لسانیات کے مطالعے کاایک دلچسپ موضوع لسانی آداب ہے۔ اس میں خطاب کے طریقے بہت اہم تصور کیے جاتے ہیں ۔ یعنی ہم کسے پہلے نام سے پکارتے ہیں اور کسے آخری نام سے۔ کسی نام سے پہلے یا بعد میں تعظیمی لفظ کیسے لگاتے ہیں ۔ اردومیں لسانی تکلفات کی بھرمار سماجی اثرات کے تحت ہے۔ حضور ‘ سرکار ‘ جہاں پناہ‘ دولت خانہ‘غریب خانہ‘سماعت فرمائیے ‘نوش کیجیے ‘ملاحظہ کیجیے وغیرہ۔

اعدادی لسانیات میں لسانیات پراعدادوشمارکا اطلاق کیا جاتا ہے۔ اس کے تحت زبان کے مختلف عناصر مثلاً اصوات ‘فونیم‘ مارفیم‘ لفظ اور معنی کا شمارکیاجاتاہے۔لسانیات کے لیے اعدادیات سے فائدے اٹھانے کی ابتدا انیسویں صدی کے آخرمیں کی گئی مثلاًپنجاب یونی ورسٹی لاہور میں سکول جانے والے بچوں کے مقالوں میں ۶۸ ہزار الفاظ شمار کیے گئے اور ان میں زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ کی تعداد ۲۳۶۸ بتائی گئی۔اسی طرح ایک مطالعے میں اردو شماری میں پانچ لاکھ الفاظ لے کر ان میں سے ۱۱ ہزار ایسے الفاظ کی فہرست بنائی گئی جو زیادہ استعمال ہوئے۔اعدادیات کی بنیادپرہی یہ طے کیاجاتاہے کہ کوئی زبان کس حدتک پھیلی ہوئی ہے۔کثیر لسانی افراد کے ذخیرۂ الفاظ کے جائزہ سے اندازہ ہوتاہے کہ انھیں کس زبان پر کس حدتک عبورہے۔اسی طرح بچوں کی درسی کتب کی تیاری میں سب سے پہلے کثیرالاستعمال الفاظ لیے جاتے ہیں اور بعدمیں ان سے کم استعمال ہونے والے۔ایک مصنف کے اسلوب کے لسانیاتی جائزے میں آوازوں ‘محاوروں اور ضرب الامثال تک کے تمام عناصر کا شمارکیاجاتاہے اور انھیں کی بنیادپر اس کے اسلوب کی بنیادی خصوصیات متعین ہوتی ہیں ۔

تقابلی لسانیات میں دو یادو سے زیادہ زبانوں کے باہمی رشتوں کی نوعیتوں کاجائزہ لیاجاتاہے۔تقابلی لسانیات میں دوزبانوں کی ساخت کے درمیان پائے جانے والے فرق کی وضاحت کی جاتی ہے۔اطلاقی لسانیات میں زبان سیکھنے یا سکھانے کے طریقوں اور اسلوب کے مطالعے میں لسانیات سے مدد لے کر ان پر اس علم کے اصولوں اورنظریوں کااطلاق کیا جاتا ہے۔ لسانیات کی اہم شاخوں میں ایک توضیحی لسانیات ہے۔توضیحی لسانیات میں زبان کی ساخت سے بحث ہوتی ہے جس کی نوعیت خالص توضیحی اور تجزیاتی ہوتی ہے۔اس طرح ہم زبان کی ساخت کے تمام پیچ و خم کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں ۔

پروفیسر گیان چندجین کے بقول:

’’تاریخی لسانیات کے تحت ہم کسی زبان کاارتقا بیان کرنے کے لیے اس کی قدیم تر منزل کا تجزیاتی بیان پیش کرنے کے لیے مجبورہیں یعنی یہ کہ ماضی میں اس کی اصوات‘اس کی قواعد‘اس کے چسپیے (Affixes)وغیرہ کیاتھے۔اس طرح تاریخی لسانیات تجزیاتی لسانیات سے استفادہ کرتی ہے اور جہاں تک تقابلی لسانیات کاسوال ہے وہاں بھی تجزیاتی لسانیات سے کنارہ کشی ممکن نہیں ۔ دومختلف زبانوں کی اصوات یاان کی تعریف کے قواعد کامطالعہ تبھی تو کیاجاسکتاہے جب ہم ان میں سے ہرایک کی بناوٹ سے واقف ہوں ۔ اس طرح تقابلی لسانیات بھی تجزیاتی لسانیات کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتی ہے۔‘‘(۵)

زبانوں کے قواعد بھی اس علم کے نظریوں ‘اصولوں ‘قاعدوں اورتصورات کی مدد سے ترتیب پاتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ زبان مختلف آوازوں ‘لفظوں اور جملوں کے ایک باقاعدہ نظام پر مشتمل ہوتی ہے جو ایک زبان سے دوسری زبان میں بدلتارہتاہے۔

آوازیں ہمارے اعضائے صوت کے مختلف اندازمیں عمل پیراہونے سے تلفظ ہوتی ہیں اور آوازوں کے سلسلوں سے الفاظ تشکیل پاتے ہیں جبکہ لفظوں کی مخصوص تربیت سے فقرے اور جملے بنتے ہیں ۔ آوازوں سے لے کر جملوں تک ہر مقام پر ہمارا عمل اختیاری ہوتاہے جس سے معانی و مفاہیم کا تعین کیاجاتاہے۔زبان میں تلفظ کی جانے والی آوازیں عام صوتیات کا موضوع ہیں ۔ اعضائے صوت کسے کہتے ہیں ؟وہ آوازوں کے تلفظ کے وقت کس طرح عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ ایک کے مقابلے میں دوسری آواز کو کس طرح پہچاناجاتاہے۔انھیں کن بنیادوں پر ایک دوسرے سے الگ کیاجاسکتاہے۔کس بنیاد پر آوازوں کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔تکلمی صوتیات ان تمام موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔

آواز کی لہروں کا تجزیہ سمعی فونیات کا موضوع ہے جو بولنے والوں کے ہونٹوں سے سننے والوں کے کانوں تک پھیلی ہوتی ہیں ۔ فونیات کی ایک قسم گوشی فونیاتAuditory Phoneticsہے جو آوازوں کو سنتے وقت کان کے اندرونی نظام سے بحث کرتی ہے اور انھیں پہچاننے کے لیے کان اور دماغ کے تعلق کا جائزہ لیتی ہے۔آوازوں کے سائنٹیفک مطالعے کے ضمن میں تکلمی صوتیات کو بڑی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ وہ علم ہے جو کسی آلے کی مددے بغیرآوازوں کی ادائیگی‘ان کی تقسیم اور درجہ بندی اور توضیح وتجزیہ پیش کرتاہے۔تکلمی صوتیات میں آوازوں کو تلفظ کرتے وقت اعضائے صوت کے مختلف انداز میں عمل پیراہونے سے بحث کی جاتی ہے جو اعضائے صوت مختلف اندازمیں عمل پیرا ہوکر آوازوں کوتلفظ کرتے ہیں ان میں ہونٹ‘دانت‘تالو‘زبان‘حلق‘ناک اور منہ کی نالیاں قابلِ ذکر ہیں۔

تکلمی آوازوں کی ادائیگی میں ہونٹ مختلف طرح سے عمل کرتے ہیں ۔ باہم مل کر(جیسے ب‘پ‘بھ‘پھ‘م وغیرہ کی آوازیں )دائرے کی شکل میں (جیسے ای‘اے ‘اَے ‘او وغیرہ)نچلے ہونٹ کے اوپری دانتوں کے ربط میں آکر(جیسے ف‘و وغیرہ)۔زبان سب سے زیادہ عمل کرنے والا صوتی عضو ہے۔صوت کے اعتبارسے اس کے کئی حصے کیے جاسکتے ہیں جیسے نوک‘ اگلا‘درمیانی‘ پچھلا‘ جڑکا حصہ۔جب زبان کااگلاحصہ دانتوں کے پچھلے حصے سے مل کر آوازیں پیداکرے تووہ دندانی آوازیں Dental Soundsکہلائیں گی جیسے ت‘تھ‘د‘دھ وغیرہ۔زبان کااگلاحصہ اوپری مسوڑھے سے مل کر ل‘ن وغیرہ کی آوازیں پیداکرتاہے۔زبان کا درمیانی حصہ پیچھے کی طرف مڑکراوپری مسوڑھے کے ساتھ ٹھ‘ٹ‘ڈ‘ڈھ‘ڑ وغیرہ کی آوازیں پیداکرتاہے۔زبان کااگلاحصہ سخت تالو سے مل کر چ‘چھ‘ج‘جھ‘س‘ز وغیرہ کی آوازیں پیداکرتاہے۔جب زبان کا پچھلاحصہ تالو سے ملتاہے تو ک‘کھ‘گ‘گھ‘خ‘غ وغیرہ کی آوازیں پیدا ہوتی ہیں ۔

تجزیاتی لسانیات کی نمایاں شاخیں درج ذیل ہیں :

صوتیات یعنی Phonetics میں اصوات کی نزاکتوں کا مطالعہ کیاجاتاہے۔یہ شاخ تمام زبانوں کا مجموعی طور پر مطالعہ کرتی ہے لہٰذا اس کا دائرہ کار محدودنہیں ہوتا۔اس کے زیرِ اثر کسی خاص زبان یا بولی کی صوتیات کا مطالعہ بھی کیاجاسکتاہے۔

فونیمیاتPhonemicsمیں کسی ایک زبان کے صوتیوں کا تعین کیاجاتاہے لہٰذا یہ صوتیات سے ذرا مختلف دائرہ کار کی حامل ہے۔اس میں اصوات کی زیادہ سے زیادہ نزاکتوں کاجائزہ لیاجاتاہے اور بالخصوص ان اختلافات کا تعین کیاجاتاہے جو معنی میں تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں ۔ اس کے زیرِ اثراصوات کی گروہ بندی کے ذریعے انھیں کم سے کم صوتیوں میں سمیٹاجاتاہے اور یہ شاخ Phonologyبھی کہلاتی ہے۔

مارفیمیات(صَرف)Marphologyمیں لفظوں کی ساخت کا مطالعہ کیاجاتاہے۔ اس میں سابقوں اور لاحقوں کا کردار اور اثرات بھی پیشِ نظر رہتے ہیں ۔

نحوSyntaxکاموضوع جملہ اور فقرہ ہے یعنی صرف و نحو مجموعی طورپرزبان کے قواعد ہیں ۔

معنیاتSemanticsمیں الفاظ اور جملوں کے مفاہیم زیرِ بحث آتے ہیں ۔

تجزیاتی لسانیات میں فونیمیات‘صرف و نحو کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جبکہ صوتیات اور معنیات کو نسبتاً کم اہمیت دی جاتی ہے۔تجزیاتی لسانیات کے علم برداروں کے نزدیک لسانیات کو زبان کی ہیئت سے غرض ہے معنی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔حالانہ فونیمیات اور صوتیات کے درمیان حدبندی ناممکن ہے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے لاتعلق نہیں رہ سکتیں ۔ جدید لسانیات میں صوتیات کے مطالعے کو خاصی اہمیت دی گئی ہے یہاں تک کہ تاریخی و تقابلی مطالعات میں بھی صوتیات کے بغیر تجزیہ نامکمل رہتاہے۔

پروفیسر گیان چند جین کی رائے میں :

’’ادب سے لسانیات کا اتناگہراتعلق ہے کہ شرح کرنے کی ضرورت نہیں ۔ لسانیات سے قدیم ادب کو اور دوسری زبانوں سے مستعار لفظوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ لسانیات کے لیے ادب مسالہ فراہم کرتاہے۔ زبان کا تاریخی مطالعہ عہد بہ عہد کے ادبی نمونوں ہی کے سہارے ہوسکتاہے۔

تاریخی لسانیات تاریخ سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ ایک قوم پر دوسری قوم کی حکومت ‘تجارتی تعلقات وغیرہ فریقین کی زبان پر اثراندازہوتے ہیں ۔ کبھی کبھی لسانیات بھی تاریخ کو شمع دکھاتی ہے۔ یورپ اور ویلز کے جپسیوں کی زبان میں ہندوستانی الفاظ کی افراط اس بات کی شاہد ہے کہ یہ لوگ عہدِ قدیم میں ہندوستان سے جاکر مغرب میں بودوباش کرنے لگے۔‘‘(۶)

اسی طرح آثارِ قدیمہ زبانوں کے نمونوں کی حفاظت کرتا ہے اور لسانیات کے ماہرین کتبوں اور تحریروں کو پڑھ کر اپنے نتائج وضع کرتے ہیں ۔ یعنی ایک مرحلے پر آثارِ قدیمہ اور لسانیات کے علوم ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں ۔ سماجی لسانیات میں یہ امر پیشِ نظررکھاجاتاہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الفاظ کے معنی بلند اور پست کیوں ہوجاتے ہیں ۔ لسانی عتیقیات کو لسانیات کا ایک اہم شعبہ گرداناجانے لگاہے اس میں زبانوں کی عمر کے تعین کے ساتھ ساتھ یہ اندازہ بھی لگایاجاتاہے کہ ایک صدی کے دوران میں ایک زبان کے ذخیرۂ الفاظ میں کس حد تک تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ لسانیات کا اہم موضوع زبان کا آغازاور ارتقا ہے جس کے بغیر ادب کا مطالعہ ادھورا ہے۔قدیم ادب کی فرہنگوں کی تفہیم کے سلسلے میں لسانیات ہی ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔ ادبی مخطوطات کے زمانی تعین کا معاملہ بھی لسانیات کا مرہونِ منّت ہے۔ اس حوالے سے پروفیسر گیان چند جین کا درج ذیل اقتباس ملاحظہ کیجیے :

’’خدابخش لائبریری بانکی پور میں کیمیائے سعادت کا جو مخطوطہ ہے اس کے بارے میں مشہورتھاکہ وہ مصنف امام غزالی کے ہاتھ کا لکھا ہُواہے۔ ڈاکٹر نذیراحمدنے اس کا مطالعہ کیا تواس میں دال ذال کا وہ فرق نہ پایاجو قدیم کتابت میں ہوناچاہیے۔اس کی بنا پر انھوں نے طے کیا کہ یہ مخطوظہ غلط طورپر ان سے منسوب ہے۔اسی طرح فارسی خط کی کچھ اور خصوصیات ہیں مثلاً ساتویں صدی ہجری تک کاف بیانیہ ’کہ ‘کو ’کی‘ لکھا جاتا تھا۔ بارہویں صدی ہجری تک گ کو ک ہی لکھاجاتاتھا۔اردومیں انیسویں صدی کی ابتداتک ٹ‘ڈ‘ڑ کے بالائی ط کے بجائے چارنقطوں کا استعمال ہوتاتھا۔جن مخطوطوں میں ان موقعوں پ ر ط لکھا ہُواہے وہ انیسویں صدی عیسی سے قدیم تر نہیں ہوسکتے۔اسی طرح کسی مخطوطے میں ہائے مخلوط کا دوچشمی ھ سے لکھا ہونااس کے نئے پن پر دلالت کرتاہے۔ زبان اور طرزِ تحریر کے ارتقاسے یہ واقفیت تحقیق میں بہت سی لغزشوں سے محفوظ رکھتی ہے اور تحریر کا ارتقا مطالعہ لسانیات کاایک شعبہ ہے۔‘‘(۷)

لسانیاتی تحقیق کے حوالے سے حقیقت پسندی کا دامن چھوڑنامناسب نہیں ۔ اس ضمن میں مشینوں کے استعمال کے حوالے سے زیادہ تخیلاتی منصوبے بنانا بھی درست نہیں ہے۔ سائنس فکشن کی وہ دنیا جہاں روبوٹ انسانوں کے سوالات کے جواب دیتا ہے ‘ابھی حقیقت سے کافی دور ہے۔ اس حوالے سے گفتگو کے اجزا کو مرتب کرنے کیے لیے تکنیکی سہولیات کا فقدان ہے حتیٰ کہ ہم کمپیوٹر کو بلند آواز میں ہدایات دے کے اس سے کام کروانے کے منصوبے کوبھی مکمل طور پر عملی جامہ نہیں پہناسکے اس لیے ہمیں لسانی تصورات کو قبل از وقت دوسری چیزوں پر لاگو کرنے کے سلسلے میں احتیاط برتنی چاہیے۔اس ضمن میں ڈیوڈ کرسٹل رقم طرازہیں کہ

’’اصولی طورپرہمیں ان دعووں پرتنقیدی رویہ اختیارکرناچاہیے جو عام طور پر لوگ لسانیات کا نام لے کر کرتے رہتے ہیں ۔ ایسے غیرمتوازن نظریات گمراہ کن ہیں اور وہ اس علم کی عام اندازفکر کی نمائندگی نہیں کرتے مثلاً یہ دعویٰ کیاجاتاہے کہ صوت سپیکٹروگراف میں آوازوں کی جو تصاویرسامنے آتی ہیں وہ ایسی معلومات رکھتی ہیں جن کے ذریعے اگرہم تربیت یافتہ ہیں تو بولنے والے کو پہچان سکتے ہیں ۔۔۔یہ دعویٰ بھی کیاجاتاہے کہ پانچ آدمیوں کے بولے ہوئے دس جملے سن کر بتایاجاسکتاہے کہ کون سے جملے ایک ہی آدمی نے اداکیے ہیں ۔ نظریاتی طورپرتو اس بات میں کوئی مشکل نظرنہیں آتی ‘لیکن ابھی ہمارے پاس بہت کم ایسی تجرباتی شہادتیں ہیں جویہ بتاسکیں کہ ایسا کس طر ح ممکن ہوسکتاہے البتہ ایسی واضح شہادتیں ضرورموجودہیں جوثابت کرسکتی ہیں کہ یہ طریقہ غلط ہے۔‘‘(۸)

صوتیات اور عروض کے مابین گہراتعلق ہے۔شعر کا وزن اصوات کا مرہونِ منّت ہے۔مروّجہ عروض کو صوتیات کی اصطلاحوں کی مدد سے زیادہ آسان اور سائنٹیفک بنایاجاسکتاہے کیوں کہ عروض کی تراش خراش میں صوتیات کا کرداربنیادی اہمیت کا حامل ہے۔فوج کے شعبۂ صوتیات کے تحت بھی دو اہم کام کیے جاتے ہیں یعنی اپنے لیے ایسے کوڈ تیار کرنا جن تک دشمن کی رسائی نہ ہوسکے اور دوسروں کے کوڈ کی تہہ تک پہنچنا۔اس طریقے کو مردہ زبانوں کے رسم الخط پڑھنے کے مترادف قراردیاجاسکتاہے۔

تجزیاتی لسانیات کے مطالعے کے بغیر زبان کی ساخت کا اندازہ ممکن نہیں ۔ صوتیات کے مطالعے کے بغیر زبان کے مصوتوں کی صحیح تعداد معلوم کرنابھی دشوارعمل ہے۔ زبان کے اسرارورموزکامطالعہ لسانیات ہے جس کے بارے میں جاننا ہمارے لیے نہایت ضروری ہے تاکہ ہم جو عرصہ دراز سے زبان استعمال کررہے ہیں اس کی جزئیات کا علم حاصل کرسکیں اور اس کے خارج کے ساتھ ساتھ اس کے داخل تک بھی اپنی رسائی کو ممکن بناسکیں ۔

حوالہ جات
۱۔ابوالاعجاز حفیظ صدیقی‘کشاف تنقیدی اصطلاحات‘اسلام آباد:مقتدرہ قومی زبان‘ ۱۹۸۵ء ‘ ص۱۵۶۔

۲۔ڈاکٹرمحی الدین قادری زور‘ہندوستانی لسانیات‘ لاہور:مکتبہ معین الادب‘۱۹۶۱ئ‘ص۲۱۔

۳۔ڈیوڈکرسٹل‘لسانیات کیا ہے ؟ ڈاکٹر نصیر احمد خان (مترجم)‘ لاہور: نگارشات‘ ۱۹۹۷ء ‘ ص۲۸۔

۴۔پروفیسر گیان چند جین‘عام لسانیات‘نئی دہلی:قومی کونسل برائے فروغِ اردوزبان‘ ۲۰۰۳‘ ص۲۱۔

۵۔پروفیسر گیان چند جین‘عام لسانیات‘ص۲۵۔

۶۔پروفیسر گیان چند جین‘عام لسانیات‘ص۳۱۔

۷۔پروفیسر گیان چند جین‘عام لسانیات‘ص۳۵

۸۔ڈیوڈکرسٹل‘لسانیات کیاہے ؟ ڈاکٹر نصیر احمد خان (مترجم) ‘ص۹۵۔م

لسانیات(زبان)

(نمبر1) لسانیات

علم لسانیات کی تاریخ

لسانیات کی تعریف:

لسانیات عربی زبان کے لفظ لسان سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب زبان کا علم ۔اصطلاح میں لسانیات علم کی وہ قسم ہے جو زبان کی بنیاد اصلیت اور اس کی ماہیت کا مطالعہ کرتی ہے اس کی پیدائش، دائرہ کار اور اس میں ردوبدل جیسے مسائل کو زیر بحث لا تی ہے لاسانیات کہلاتی ہے
لسانیات زبان کو عربی میں لسانیات کہا جاتا ہے اور انگریزی میں یہ لینگویج کے نام سے موسوم ہے یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ملفوظ آوازوں کی مدد سے انسان اپنے خیالات کی بہترین ترسیل کرتا ہے اگر زبان نہ ہوتی تو ہماری زندگی دشوار ہوتی کیوں کہ سماج میں رہنے کے لئے زبان کا بولنا اور لکھنا نہایت ہی ضروری ہے
۔
علم لسانیات کی تاریخ:
علم زبان کا باقاعدہ آغاز اس وقت ہوا جب لوگوں نے ان تمام امور پر سوچنے کا کام شروع کیا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ مختلف مقامات کے رہنے والے لوگ کیوں ایک ہی زبان نہیں بولتے؟ الفاظ پہلے پہل کیسے وجود میں آئے؟ کسی نام میں اور کسی چیز میں جس سے وہ نام منسوب ہے۔ کیا تعلق ہے؟ کسی بھی شخص یا کسی بھی چیز کو کوئی ایک نام کیوں دیا جاتا ہے؟ ان تمام سوالات کے جوابات ابتدا میں مذہبی امور کے تحت دئیے جانے لگے۔
سئیس کے مطابق زبان کی نوعیت کو سمجھنے اور سمجھانے کی سب سے پہلی کوشش بابل میں کی گئی۔ بابل کے تعلق سے یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ وہاں کے مشہور مندر میں جسے’’ ٹاور آف بیبل ‘‘کہتے ہیں مختلف نسل اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ اکٹھے ہوتے تھے ۔جس کی بنیاد پر یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ زبان کا آغاز یہیں سے ہوا۔ سئیس لکھتا ہے کہ:
’’ تقابلی لسانیات کی قسم کی سب سے پہلی تحریر ’’بابل‘‘ کے آثار میں ملتی ہے‘‘
بابل کے لوگ جو زبان بولتے تھے وہ اکاڈین کے نام سے موسوم کی جاسکتی ہے۔ اس زبان کا رواج سترویں صدی قبل مسیح میں مفقود ہو گیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہاں کی سرزمین پر دوسری قوم آباد ہوئی اور دوسری قوم کو پہلی قوم کی زبان سمجھنے کے لئے لغات اور قواعد لکھنے پڑے۔ اس کےلئے اہل بابل نے مشترک مادوں کی چھان بین کا عمل شروع کیا اور علماء کے مطابق مادوں کا حصول علم زبان کا بنیادی اصول ہے۔ اس لئے اہل بابل کی ان کوششوں کو اولین لسانی کوششوں کے نام سے موسوم کیا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد ہندوستانی قواعد نویسی کا دور آتا ہے۔ ویدوں کی زبان جب متروک ہو گئی اور بدھ مت اور جین مت کے ابھرنے نے کی وجہ سے پراکرتوں کو تحریری اور علمی زبان کا درجہ حاصل ہونے لگا تو ہندو کو اپنی زبان کے علاوہ سنسکرت کے پڑھنے اور بول چال کی زبان سے اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ہندوستان کے علماء جیسے پاننی وغیرہ نے زبان کے مطالعہ میں جو توضیحی اور تجزیاتی طریقہ اختیار کیا تھا اس سے مغربی علماء بہت بعد کو واقف ہوئے اور سنسکرت زبان اور اس کے تجزیہ کے اصولوں سے واقف ہونے کے بعد مغربی علماء کے فکر کی نہج بدل گئی اور جدید علم زبان کی بنیاد پڑی۔
یونانیوں نے علم زبان کے ارتقا کے سلسلے میں ایک نئے رجحان کا آغاز کیا ۔یعنی کہ ان کے یہاں خطابت کو بہت مقبول پن مانا جاتا تھا ۔اس سلسلہ میں یونانی فلسفیوں کو لفظوں کے اثر کا پتہ چلانے کے لیے خیال اور لفظ کے باہمی تعلق کی چھان بین کا احساس ہوا اور وہ اس میں مصروف ہوگئے۔ لیکن لفظوں کی چھان بین میں علم بیان کو اتنا زیادہ فائدہ نہیں ہوا جتنا کے منطق کو مدد ملی اور اس سے متعلق علم کو وہاں علم اشتقاق کے نام سے موسوم کیا گیا۔ رومی، علم زبان کے فروغ میں یونانیوں کے نقش قدم پر چلتے رہے اور انہوں نے زبان کے بنیادی اصول تسلیم کر لیے تاہم ان کے مطابق عملاً گفتگو میں ہر اصول کا ایک متشنٰی ہوتا ہے ان کی اس توجہ کی وجہ سے انا لوگسٹ Analogist اور انامولسٹ Anamolist کے طویل جھگڑوں کا خاتمہ ہوگیا۔
چودھویں اور پندرہویں صدی عیسوی کے اہم واقعات میں رومی اقتدار کا خاتمہ اور عیسائیت کی ترقی تھی۔ جس کی بنا پر عیسائی علماء مذہبی صحائف کا مطالعہ کرنے لگے۔ ان کے اس مطالعہ سے یہ فائدہ ہوا کہ وہ ایک طرف یونانی اور لاطینی کے قریبی رشتہ کو سمجھنے کے قابل ہوئے۔ تو دوسری طرف انہیں عربی ،سریانی اور عبرانی میں بھی گہرا تعلق دکھائی دینے لگا ۔نیز اٹھارویں صدی عیسوی سے ایرانی زبان کے مطالعہ کا بھی دلچسپی سلسلہ یورپ میں شروع ہوا۔
واسکوڈی گاما نے جب ہندوستان کا راستہ دریافت کرلیا تو یورپی لوگوں کی آمد و رفت یہاں بھی شروع ہو گئ۔ جس کی وجہ سے وہ لوگ سنسکرت زبان سے دھیرے دھیرے واقف ہونے لگے۔ جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج کا قیام عمل میں لایا تو وہاں اردو، بنگالی، مرہٹی اور سنسکرت کی تعلیم کا بھی انتظام کیا گیا۔ ان کاوشوں کے نتیجہ میں اہل یورپ ہندوستان کے ادبی کارناموں سے واقف ہونے لگے اور سنسکرت اور دیگر ترقی یافتہ زبانوں کے ترجمے یورپی زبانوں میں شائع ہونے لگے ۔جب ہندوستانی زبانوں بالخصوص سنسکرت کے کارناموں کی اشاعت یورپ میں ہوئی تو یورپ میں لسانی مطالعہ کے لئے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔
سر ولیم جونز نے کلکتہ میں رائل ایشیاٹک سوسائٹی قائم کرکے جدید لسانیات کا سنگ بنیاد رکھا ۔ اٹھارویں صدی کے علماء زبانوں کی ساخت کے فرق کا اندازہ نہیں لگا سکتے تھے۔ اس کے علاوہ اصوات کا بھی کوئی تصور ان کے پاس موجود نہیں تھا۔ جس کے نتیجے کے طور پر زبان کی تاريخ مسخ ہو جاتی تھی۔ لہذا ان تصورات میں سنسکرت زبان کے علم نے ایک انقلاب برپا کر دیا ۔ہندستانیوں کے مذہبی علوم کا ابتدائی سرمایہ سنسکرت زبان میں محفوظ ہے۔ مروجہ زمانہ کی بول چال کی زبانیں جب مقدس صحائف سے ممیز ہونے لگی تو ہندوستانی علماء کو ان مقدس کتابوں کے صحیح طور پر مطالعہ کرنے کے لئے تفصیلی اور توضیحی قواعد مرتب کرنے کی ضرورت پڑی۔ جس کی بنا پر سنسکرت کی قواعد کا تجزیہ شروع ہوا ۔اصوات کے علم پر پہلی کتاب “پرتی شاکھیا” لکھی گئی ۔دوسرا اہم قدم “یاسک”نے اٹھایا جس نے اپنی کتاب ” نی رُکت”میں علم استقاق سے بحث کی۔
سنسکرت قواعد نویسیوں میں پانینی ( تقریباً 350تا250ق م)کا نام سر فہرست ہے۔ پانینی نہ صرف سنسکرت کا بڑا قواعد نویس ہے بلکہ ساری دنیا کے قواعد نویسوں میں اونچا مقام رکھتا ہے۔ پانینی کا شاہکار کارنامہ ا”اشتھا دھیاۓ”ہے جو اردو زبان کے تجزیہ اور توضیح کے اعتبار سے دنیا کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔
پانینی کے بعد دوسرا اہم قواعد نویس “پتنجلی” ہے جس کی کتاب “مہا بھاشیہ”دراصل پانینی کے اصولوں کی تشریح اور توضیح پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد جینی عالم ہیم چندر کو اہم مقام حاصل ہے۔ جب سنسکرت زبان کی قواعد یورپ پہنچی تو یورپی علماءکو زبان کے اصول اور اس کے صحیح تجزیہ کے طریقے معلوم ہوئے۔ ان تجزیوں کی بنیاد نظریوں پر نہیں بلکہ گہرے مشاہدے پر مبنی تھی ۔تجزیہ کی بدولت جب صحیح روپ معلوم کرنے کے طریقے دریافت ہوئے تو الفاظ اور تشکیلوں کے روپ میں جو مشابہتیں پہلے دور میں مبہم نظر آ رہی تھی اب زیادہ علمی اور قطعی صورت میں دکھائی دینے لگیں۔
علم زبان کی اس توسیع سے زبانوں کے تاریخی اور تقابلی مطالعہ کو مزید ترقی ہونے لگی۔ تاریخی مطالعہ جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا یہ بات بھی واضح ہوتی گئی کہ زبان تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
انیسویں صدی کے اواخر تک علم زبان کے مطالعہ اور تحقیقات کو بڑی ترقی حاصل ہوئی جس کے نتیجے میں ماہرین زبان کے کارنامے شاہکار کی حیثیت اختیار کرنے لگے ۔دیگر ماہرین زبان کے علاوہ امریکی ماہرین لسانیات آگے آنے لگے اور اپنی کاوشوں کی بدولت عالمی زبان کے فروغ میں اہم رول ادا کیا ۔ان میں پہلا نام ولیم وائٹ واہٹنی (1894ء۔1827ء) کا ہے۔ جس نے اپنی دو تصانیف یادگار چھوڑی ہیں ۔پہلی کتاب زبان اور مطالعہ زبان پر مبنی ہے جو 1867میں شائع ہوئی ۔دوسری کتاب زبان کی زندگی اور اس کی نشوونما کے موضوع پر 1874 شائع ہوئی۔ *** لسانیات کی تعریف
لسانیات عربی کےلفظ لسان سے ماخوذ ہے۔ اس سے مراد زبان کا علم ہے۔ اصطلاح میں لسانیات علم کی وہ قسم ہے جو زبان کی بنیاد ۔ اصلیت۔ اور اسکی۔ماہیت۔ کا مطالعہ کرتی ہے۔ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور نے اس کی کچھ اس طرح تعریف کی ہے۔
لسانیات کی اقسام
لسانیات کی چار اہم اقسام یہ ہیں۔
ا۔ صوتیات ب۔معنویات ج۔نحویات د۔ مارفیمیات
لسانیات کی تحقیق کے حوالے سے دو طرح کی تجربہ گاہیں ہو سکتی ہیں ایک باقاعدہ تجربہ گاہ دوسری کوئی بھی لسانی گروہ جہاں لوگوں کو بولتے ہوئے سنا جائے اور اس سنے ہوئے سے اخذ کیا جائے کہ آیا کسی علاقے ہیں لسانیات پر کیا تغیرات آئے ہیں۔
ا۔صوتیات ::
صوتیات لفظ صوت سے نکلا ہے اور صوت سے مراد آواز کے ہیں۔ صوتیات لسانیات کی ایک ایسی صنف ہے جس میں آواز سے متعلق مطالعہ کیا جاتا ہے۔ صوتیات بولنے کی چیز ہے اور اسکا تعلق وترانِ صوت سے ہے۔ اس میں مختلف علاقوں کی اصوات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔بعض علاقوں کے وترانِ صوت درست نہیں ہوتے اور ان میں غلطی قدرتی طور پر وقوع پذیر ہو جاتی ہے۔ جیسے انڈیا اور انگلینڈ کے لوگوں کے وترانِ صوت پاکستان کے الفاظ کی ادائیگی سے قاصر ہیں ۔اگر یہ لوگ پاکستانی الفاظ کا استعمال کریں کے تو پھر تلفظ میں غلطی کریں گے۔جو کہ سننے میں بھلا نہیں لگے گا۔ہر صوتی کرشمہ زبان کے صوتی نظام کا پابند ہوتا ہے۔ ہر شخص کا اعضائے صوت بچپن ہی سے ایک مخصوص زبان کی آوازوں ۔ان کے تال میل۔ تالیف و ترکیب کی صورتوں کے عادی ہو جاتے ہیں ماہرین ِ لسانیات نے صرفی۔ نحوی۔ اور معنویات کی تبدیلیوں کے مقابلے پر صوتی تغیرات کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔کیونکہ یہ زیادہ واضح ہوتے ہیں اور ان کی جانچ پڑتال زیادہ صحت کے ساتھ ہو سکتی ہے۔یہ تغیرات عموماً زیادہ باقاعدگی سے ملتے ہیں۔
نامیاتی یا تعمیری تبدیلی
صوتی تبدیلی کی وہ نوعیت جو کسی زبان کے سرمایہ کلمات یا اس کے معقول حصے میں باقاعدگی سے ملتی ہے۔ نامیاتی یاتعمیری تبدیلی کہلاتی ہے۔ مثلاً
دخیل الفاظ جو پراکرت کی وجہ سے ہند آریائی میں آئے اور جن کی اختتامیہ آواز۔ کی ۔کے بدل کر الف ہو جاتی ہے جیسے۔کیٹک سے کیڑا۔ بھیک سے بھکشا ۔ جبہا سے جیبھ وغیرہ
مشروط اور غیر مشروط صورت
کلمے کے کسی آواز کی تبدیلی آس پاس کی آوازوں کے زیرِ اثر بھی ہو سکتی ہے اور ان سے بے تعلق بھی ۔ پہلی صورت مشروط اور دوسری غیر مشروط صورت کہلاتی ہے۔
اعضائے اصوات
انسانی آواز کی پیدائش میں مندرجہ ذیل اعضا مل کر صوتی آلات کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ پھیپھڑے۔ حلقوم۔ بلعوم۔ حنجرہ۔ اعصابِ نطقی۔ منہ۔ناک۔ تالو۔ زبان۔ دانت۔ اور ہونٹ وغیرہ۔پھیپھڑے دھونکی کا کام کرتے ہیں اور یہ ہوا کے بہاو کو مطلوبہ دباو یا رفتار سے حلق میں گزرتے ہیں اور ایک تسلسل کو ضرورت کے مطابق قائم رکھتے ہیں۔ آواز کا اصل سرچشمہ حلق ہے۔ جس میں واقع اعصابی ریشے اس ہوا کے دباو سے متاثر ہو کر تھرتھرانے لگتے ہیں جس سے اس ہوا کے دباو سے ایک ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے۔اور لفظ اصوات کی صورت سامنے آتے ہیں۔
ب۔ معنویات ::
معنویات کا دوسرا نام لغویات ہے ۔معنویات لفظ معنی سے ہے۔ جس سے مراد مفہوم جاننے کا ہے۔ لسانی تغیرات میں معنویات کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ لغوی معنوی تبدیلی کے ذیل میں کلمے کا حوالہ ایک منظم اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔مختلف زبانوں میں الفاظ کا کثرت سے اشتراک یا ان کے درمیان گہری مماثلت اور مطابقت ان میں باہمی لسانی رشتوں کی غمازی کرتی ہیں۔ لیکن الفاظ کا یہی گہرا اشتراک کسی سابق دور میں ان زبانوں کی حامل اقوام کے آباو اجداد کے درمیان گہرے تہذیبی رشتےیا وسیع تجارتی تعلقات کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے،۔ فارسی اور ہنسپانوی میں عربی اور اردو برصغیر کے شمالی حصے کی دیگر زبانوں میں پرتگیزی عناصر کی موجودگی واضع ہے۔
مثالیں۔
وسطی انگریزی کا ماس بدل کر ماوس ہو گیا مگر مدلول وہی رہا۔ سنسکرت میں وردل نے جدید آریائی میں بادل کا بہروپ بھرا مگر معنی میں کوئی فرق نہ آیا۔
زبانوں کی معنویاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں کلموں کے متروک ہوتے رہنے اور نئے کلموں کے جنم لیتے رہنے کے عمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہر زبان کے ارتقائی سفر میں کچھ کلموں کا چلن کم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتے ہیں ۔جیسےمیزان عربی میں ترازو کو کہتے ہیں لیکن اردو مین جمع کے معنی میں مستعمل ہے۔ عمارت کو آبادی کے بجائے بڑے مکان کے معنی دیے۔ غریب لفظ مسافر کے لیے تھا مگر اس کا مفہوم بلکل ہی بدل کیا ہے۔
ج۔ نحویات ::
نحویات لفظ نحو سے ہے اس میں معنی و مفہوم کے لحاظ سے کلموں اور ان کی تبدیلیوں ۔ جملوں کی ماہیت۔ ان جملوں میں کلموں کی ترتیب۔ مطابقت اور معنوی رشتوں کو موضوع ِ بحث بناتے ہیں۔کلمے اور کلموں کے گروہ جن سے مکمل ۔ بامعنی کلام ترتیب پاتا ہے یعنی مفرد اور مرکب جملے یہ حصہ علمِ تحو کہلاتا ہے۔اس میں جملوں کی ساخت کلموں کی ترتیب مطابقت اور ان کے باہمی ر شتوں پر منحصر ہوتی ہے ۔ گویا یہ جملے کے تین اصول بیان کرتے ہیں کلماتی ترتیب مطابقت اور نحوی رشتے جملے کا جزو ترکیبی بنبے والا فقرہ کبھی کبھی خود بھی ایک مکمل جملہ ہو جاتا ہے۔
بامعنی کلام یا جملہ ہی پوری بات یا خیال کے ابلاغ کا حق ادا کرتا اور زبان کی غرض و غائیت پوری کرتا ہے جملہ ہی کلام کا وہ بڑے سے بڑا ڈھانچہ ہے جس میں قواعد ی عناصر اور ان کے زمروں کے باہمی تعلق کی بھرپور نمائندگی ہوتی ہے اس بدولت کلمے کے وہ سیاق و سباق سامنے آتے ہیں جن سے معنی کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔ اس کو قواعدی تجزیے کی سب سے بڑی اور ساختیاتی توضیح کی اہم ترین سطح قرار دے سکتے ہیں۔
د۔ مارفیمیات ::
یہ علم گرائمر کی گردان سے تعلق رکھتا ہے۔ لسانیات کی رو سے گرامر بنیادی طور پر ناقابلِ تقسیم معنوی اکائی یا اقل ترین معنوی اکائی سے بحث کرتی ہے۔اس اکائی کو مارفیم کے نام سے تعبیر کیا جایا ہے۔اردو میں اس کے لیے معنیہ کی اصلاح بھی استعمال کی گئی ہے۔ مارفیم کی دو ہیتیں ہیں۔بالذات اور تابع
بالذات ہیت خود ایک کلمہ ہے مگر پھر بھی مزید کلمے تشکیل کر سکتی ہے۔ تابع ہیت کسی نہ کسی اور کم از کم ایک مارفیم کے ساتھ یہ استعمال ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ گرامر ایک ایسا نظام ہے جو معنیوں اور ان کے باہمی رشتوں پر تعمیر کیا جاتا ہے۔بالذات ہیت خود ایک کلمہ تشکیل کر سکتی ہے مگر تابع کسی نہ کسی اور مارفیم سے مل کر کلمہ تشکیل دیتی ہے۔مختلف زبانوں میں معنیوں ۔کلموں اور فقروں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔
مثالیں۔
اردو میں ایسا مزکر اسم جو الف یا ہ پر ختم نہ ہوتا ہو متیدا کی حیثیت یا غیر فاعل کی حالت میں ہو تو واحد جمع دونوں صیغوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

مرد آیا چار مرد آئے اچھے مرد آئے

بعض زبانوں میں غیر حقیقی جنس کا وجود نہیں جیسے جرمنی میں مزکر مونث اور لاجنس وغیرہ۔۔۔
زبان کی تعریف
زبان انسان کے جذبات و احساسات کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے زبان کے ذریعے انسان اپنے خیالات سماج کو ظاہر کرتا ہے ماہرین لسانیات کے نزدیک ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعہ مدد شور طور پر اپنے اپنے ارادے کے ساتھ اپنے خیالات کو واضح کرتے ہیں اس کے بارے میں اور بھی ماہرین کی رائے موجود ہے
عبدالقادر سروری لکھتے ہیں
زبان لسانیات کی اصطلاح ہے وہ ملفوظ آوازیں ہے جو انسان اپنے منہ سے ادا کرتا ہے اور جن کے ذریعہ سے وہ اپنے مافی الضمیر کو دوسروں پر ظاہر کرتا ہے

علم زبان کی تاریخ

یونانیوں نے علم زبان کے ارتقا کے سلسلے میں ایک نئے روجہان کا آغاز کیا یعنی ان کے حطابت کو بہت مقبول پن مانا جاتا تھا اس سلسلہ میں یونانی فلسفیوں کو لفظ کے اثر کا پتہ چلانے کے لیے خیال اور لفظ کے باہمی تعلق کی چھان بین کا احساس ہوا اور اس میں مصروف ہوگئے

لسانیات کی شاخیں

دراصل لسانیات کی بہت گہری شاخیں ہے جس پر مختلف مفکرین کی ان گنت کتابیں لکھی گئی ہے اور لسانیات سماج میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے جس کو مندرجہ ذیل تفصیل میں لکھا گیا ہے

سماجی لسانیات

سماجی لسانیات یعنی سماجیت اور لسانیات کے کے امتزاج سے بھی سماجی لسانیات کی ترکیب واضح کی گئی یہ لسانیات کی وہ شاخ ہے جس میں زبان کا مطالعہ سماج کے لئے یہ سمجھ کے سیاق و سباق کے تخت کا کیا جاتا ہے ہم اسے زبان کی سماجیات کہتے ہیں لسانیات میں جہاں زبان کا گہرائی و گیرائی سے سائنسی مطالعہ کیا جاتا ہے وہی سماجیات میں سماج میں بالخصوص اثر سمجھ کر جائزہ لیا جاتا ہے اور تجزیہ کرتے ہوئے اس کی فلاح و بہبود پر توجہ دی جاتی ہے سماجی لسانیات سماجیات اور لسانیات کے باہمی اشتراک سے عبارت ہوتی ہے سماج کا ایک وسیع دائرہ کار ہوتی ہے اس کے اپنے مسائل اور پیچیدگیاں ہوتی ہے اس کی وصایت اور ہمہ گیریت کے پیش نظر لسانیات کے موضوع پر بھی تقسیم ہو جاتے ہیں اور سماجی لسانیات ان تمام کے اخاطہ کرتی ہے تو ان کی صلاحیت ان کی سماجی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے
سماج فرد افراد سماجی طبقوں اور مختلف معاشی گروہوں کی سرگرمیوں پر مشتمل ہوتا ہے سماج میں موجود افراد ایک یا کئی زبانوں پر مہارت رکھتے ہیں یا مختلف زبانوں کو بولنے یا سمجھنے پر قدرت رکھتے تھے اس کے علاوہ زبان اور سماج کے تعلق کو سمجھنا اس کی ترجمانی کا زبان پر سماج کے عوامل کی نشاندہی کرنا اور سماج پر زبان کے ثبت کردہ نوش کا جائزہ لینا ہے سماجی لسانیات correctional social language کے تحت یہ زبان رویہ اور سماجی درجہ کے درمیان تعلق کا مطالعہ کرتی ہے جیسے ہجرت کرنے والے کی مادری زبان سے دوری مادری زبانوں کا استعمال کرنے والے دوسرے ملک میں رہنے والے دوسرے زبانوں کا استعمال کرنے والے جنس کے تخت خواتین مردوں کی زبان کے حواتین کی زبان آدمیوں کے مقابلے میں حقیقی اعلیٰ درجہ کی حامل ہوتی ہے
سماجی لسانیات ریاضیاتی اصولوں سے بھی استفادہ کرتی ہے او استعمال شدہ زبان کا data جمع کرتے ہوئے اعداد و شمار کی بناء پر زبان کی تبدیلی کی بنیادی وجوہات داخلی طور پر مرتب اثرات ظاہر ظاہری اسلوب کی تبدیلی ظاہر کرتی ہے جو تاریخی طور پر ریکارڈ نہ ہو پایا ہوں

زبان کی تاریخ کا مطالعہ ، زبان کی موجودہ صورتحال کا مطالعہ
یہ بھی سماجی لسانیات کے دائرہ کار میں آتے ہیں

لسانیات اور مخصوص علاقہ
لسانیات کی ایک شاہ سماجی لسانیات میں حملے سانیات اور مخصوص علاقے کا ذکر کرتے ہیں جو کہ ایک مخصوص علاقے میں لسانیات زبان کیا میں بول چال میں بہت فرق ہوتا ہے کیوں کہ محسوس علاقے کی ثقافت اور تہذیب میں فرق ہوتا ہے اس لئے ان کی زبان لسانیات میں بھی فرق پایا جاتا ہے کیونکہ اور لفظوں کے استعمال دوسروں کی آسانی کیلیے استعمال کرتا ہے،

انفرادی لسانیات
لسانیات اور محسوس علاقے میں ایک پر انفرادی لسانیات کا بھی ہے جبکہ یہ بھی سمجھ لسانیات کا حصہ ہے ایک شخص یا ایک گروہ اپنے لئے کون سی بولی اور زبان کا استعمال کرتی ہے یہ ان پر منحصر ہے کیونکہ اس شخص کی یا اس گروہ کی لسانیات بولی اور زبان میں فرق ہوتا ہے ایک مفکر کے مطابق زبان کی یا لسانیات کی تبدیلی میں ہر پندرہ سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر پایا جاتا ہے

بولی اور لسانیات
بولی اور لسانیات میں جب کہ بہت زیادہ فرپایا جاتا ہے بولی جبکہ بولی ایک خاص اور مخصوص گروہ میں اظہار کا نام ہے یعنی بولی ایک خاص اور مخصوص گروہ بولنے والی زبان کو ہم بولیں کہتے ہیں جبکہ لسانیات جبکہ لسانیات جبکہ لسانیات تمام دنیا کے انسانوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے

لسانیات

یہاں قوم و قومیت کے مفہوم قبائل اور زبان و سرزمین قدیم تہذیبوں کا ارتقا پر ایک عرصہ دراز سے ایک باعث چل نکلی ۔ایک ساتھ ۔ایک توجیع یہ بھی دینے لگے کہ کسی قوم و نسل کےلیے خون کا رشتہ ضروری نہیں ۔خیر یہ پاکستانی دانشور خاص کر ھمارے خطہ کے نابالغ دانشور کوئی موداد نہ ھونے پر ان بُنیاد بنا کر مقامی قوموں کی کی تاریخ کو مسخ کرنے کے ساتھ ساتھ خطے کہ مسلمہ حثیت اور زبان کے ساتھ قدیم تہذیبوں کا خدوخال بگارنے کی کوشیش شروع کر دی ان عقل کے اندھوں کو یہ بات کون سمجھائیں یار آجکل سائنس کام جدید دور ھے اور سب کُچھ سائنسی انداز میں تحقیق طلب ھے ۔میں نے اس موضوع پر مخلتف محققق کی تحریر وں اور اتھر کی بکس سے مواد لے کر لکھنے کی جسارت کی ھے امید ھے کُچھ اگر تحقیقی حوالے سے دلائل کے ساتھ اختلاف تو رائے دیں ورنہ ۔نابالغ دور رہیں ۔سلسلہ نمبر۔1 لسانیات۔۔۔زبان ۔ زبان کے علم کو لسانیات کہتے ہیں اس میں زبانوں کی آپس میں مشابہت، زبان کی ابتدا اور زبانوں کا آپس میں کیا تعلق ہے اس کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ لسان یاں زبان ایسا عمل ہےجس کے ذریعے مختلف آوازوں، اشاروں کی مدد سے ایک دوسرے تک معلومات کی ترسیل کی جاتی ہے۔

دنیا پہ بسنے والے جانداروں میں سے انسان واحد جاندار ہے جو اپنے احساسات کا اظہار بول کے کر سکتا ہے. لفظ ہمیں ہنساتے، رلاتے، غصہ دلاتے ہیں، لفظوں کے کهیل میں انسان کسی دوسرے انسان کو قابو کر سکتا ہے، کسی لفظ اور اس کے اچها یا برا ہونے کا معیار انسان کا اپنا مقرر کردہ ہوتا ہے، لفظوں کو ہم ہی مقدس یا ہتک آمیز قرار دیتے ہیں. ایک انسان الفاظ کے ذریعے اپنی سوچ کو دوسرے انسان تک منتقل کرتے ہوئے اس کے عمل کو اپنی مرضی کے مطابق ڈهال سکتا ہے. اپنی اگلی نسل تک اپنے عملی تجربات اور معلومات کی منتقلی کا ایک اہم ذریعہ زبان بهی ہے.

لیکن یہ لفظ ہیں کیا؟

ویزولئیزیشن کسی بھی چیز کی ذہن میں تصویر لانے کے عمل کو کہتے ہیں۔زبان کے لفظوں کا مقصد ان تصویروں کو دوسروں تک پہنچانا ہے لفظ بذات خود کچھ معنی نہیں رکھتے انسان ہی ان کو معنی دیتا ہے۔ ہر حرف، علامات کی ماند ہے اوران کے ملاپ سے لفظ بنتے ہیں۔ اور یہ زبان کا عمل صرف ان دماغی خیالات کو ایک دوسرے تک پہنچانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں.

اشاروں کی زبان میں انسان کے علاوہ چند دیگر جانور ڈولفن مچهلی، گوریلا، ایشیائی ہاتهی کوشک، چمپینزی، طوطا، وہیل مچهلی، ببونز بن مانس بهی اپنے جذبات کا اظہار اور معلومات بهیجنے کا کام کرتے ہیں, دنیا میں اس وقت تقریباً 6909 زبانیں بولی جاتی ہیں. انسان اپنے گلے، زبان، اور منہ کی بناوٹ سے 1100 فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے صوتی تهرتهراہٹ نکالتا ہے. صوتی تهرتهراہٹ کو ہم آواز کہتے ہیں. انسانی آواز کی فریکوئینسی 30 ہٹز سے لے کر 1100 ہٹز تک ہوتی ہے.

زبان کا استعمال ایک دوسرے تک معلومات کی روانی کے لیے ضروری ہے جس میں خاص لفظوں کا استمعال کیا جاتا ہے مگر کیا اپنی ذات سے بات کرنے کے لیے لفظوں اور زبان کا ویسا ہی استمعال ضروری ہے جیسا کہ دوسروں سے کیا جاتا ہے۔ اس امر میں اگر دیکھا جائے تو اپنی ذات سے بات کرنے کے لئے لفظوں کا استعمال بتدریج کم کر کے مشاہدہ کرنا چاہیے۔ اور ہو سکے تو اپنے آپ سے کبھی بھی لفظوں میں بات نہیں کرنی چاہیے۔

انگریزی جریدے ” زبان ” میں شائع ہونی والی ایک تحقیق کے مطابق ایموزون جنگلوں کے پراہا اور اموندوا قبائل میں اپنے جذبات کے اظہار کے لئے لفظوں کی قلت ہے. شمال مشرقی بهارت میں مارنگ قبیلے کے لوگ تعداد کی گنتی کے لئے صرف تین تک کے اعداد جانتے ہیں. الفاظ کی قلت میں پراہا اور اموندوا قبیلے کے لوگ مارنگ قبیلے جتنے الفاظ بهی نہیں جانتے ہیں.

پورٹس ماؤتھ یونیورسٹی سے پروفیسر کرس سنہا نے ایمزون کے جنگلوں میں رہنے والے قبائل کی زبانوں کا مطالعہ کیا، شمال مغربی برازیل کے اموندوا قبیلے کے لوگوں کی زبان میں الفاظوں کا نہایت فقدان ہے وقت، ہفتہ، مہینہ اور سال کے لئے ان کے پاس کوئی لفظ نہیں ہے

اموندوا قبیلے کے لوگوں کے ساتھ ماہر لسانیات وینی سمپائیو اور اینتهروپولوجیسٹ ( انسانی نفسیات شناس ) ویرا سلوا سنہا نے آٹھ ہفتے گزارے اور اس بات کا مطالعہ کیا کہ وہ اپنی زبان میں ” اگلے ہفتے” یا ” پچهلے سال” وغیرہ کا اظہار اور ادائیگی کس طرح کرتے ہیں. مطالعہ کے بعد نتائج سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کی زبان میں ایسے کوئی لفظ نہیں تهے. وہ صرف دن، رات، خشک اور برساتی موسم کے بارے میں جانتے ہیں، قبیلے کے لوگوں میں عمر کا کوئی تصور نہیں ہے.

یہ ایسے قبائل ہیں جن سے وقت گزرنے کے ساتھ شہر اور دیگر قصبہ و گاؤں سے تعلقات میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ وحشی قبائل اور ایسے قبائل جن کا جدید دنیا سے رابطہ بهی نہیں ہوا امکان ہے کہ ان میں جذبات کے اظہار اور بول چال کے الفاظ نہایت قلیل ہوں گے.

لفظوں کا استعمال دماغ کی سوچنے کی صلاحیت کو کمزور بنا دیتا ہے کیونکہ ذہن کے خیالات کو اگر پہلے لفظوں کا محتاج بنایا جائے تو وہ اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ اس لیے دماغ کا زیادہ سے زیادہ اور لفظوں کا کم سے کم استمعال کیا جانا چاہیے۔ اور ترسیل کے اس عمل کو تصویر کی صورت پر ہونا چاہیے۔ اس بات کی دلیل میں یہ بات بہت اہم ہے کہ ہمارا دماغ تصویر کی طرح ہی سوچتا ہے اور اس کا کام ویزولئیزیشن ہے۔ اگر اپنے آپ سے بات کرنے کے دوران لفظوں کا استعمال کیا جائے تو ذہن کی سوچنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔

لفظ یا الفاظ خود کچھ نہیں ہوتے ، یہ ایک مخصوص صوتی تهرتهراہٹ ہوتی ہے جسے ہم انسان اشکال کی پہچان کے لئے وضع کرتے ہیں. اس لفظ کو بهی ایک نام یا پہچان انسان نے خود دیا جسے ہم لفظ کہتے ہیں. کسی بیل یا گائے کو نہیں معلوم کہ ہم اسے گائے کہتے ہیں. انسان کو بهی انسان نے خود کہا کہ وہ انسان ہے. ان مخصوص صوتی تهرتهراہٹوں کو بهی ہم اسی وقت سمجھ سکتے ہیں جب ہمیں ان سے منسلک اشکال کا علم ہو، جیسے کسی اجنبی زبان کے الفاظ ہمیں اس لئے سمجهنے میں مشکل ہوتی ہے کیونکہ اس زبان کے الفاظ سے منسلک اشکال سے ہم لا علم ہوتے ہیں.

ایک اور مثال سے اس کی وضاحت کی جائے تو زمین کے گرد گهومتے ایک سیارچے کو صدیوں پہلے ہمارے آباء و اجداد کی طرف سےپہچان کے لئے نام چاند، قمر، ہلال، چندرما یا Moon مختلف خطوں کی مختلف زبانوں میں پہچان کی غرض سے صوتی پہچان ایجاد کی گئی.

ہمارے نام بهی اردگرد موجود چیزوں اور پہچان سے جوڑے جاتے ہیں. اب اگر کسی کا نام قمر ہے تو لفظ قمر زمین کے گرد گهومتے اس سیارچے کی پہچان کے لئے وضع کیا گیا لفظ ہے، پهر وہ شخص جسے قمر بلایا جاتا ہے اس کا اصل نام کیا ہے؟ اور یہ لفظ قمر درحقیقت ہے کیا؟

لفظ اور زبانیں بهی ارتقائی مراحل سے گزرنے کے بعد ترقی و تنزلی کی جانب گامزن رہتی ہیں. مستقبل میں بہت سی ایسی زبانیں ناپید ہو جائیں گی جس خطہ کی معیشت زوال پذیر ہو جائے گی اور اس خطہ کے لوگوں پر جس جدید معاشرے کی معیشت غلبہ پا لے گی اس جدید معاشرے کی زبان، مقامی زبان کے الفاظوں پر غلبہ پانے لگے گی. مستقبل بعید میں صرف وہ زبانیں باقی بچ جائیں گی جن میں نت نئی سائنسی علوم کی تحقیق و ایجادات ممکن بنائی جائیں گی

*

About

I got a very beautiful idea from your site. I want to write what you know is unique. A new thing. A historical building. There are various topics on which I think it is better to write and share. Tourism is historical places, there are travelogues. Archeology is the beautiful colors of the universe that I see with my own eyes. I write by hand and I am happy to share it. Maybe I can introduce something new to the readers. I write in local journal and group. These thoughts and ideas of mine will be appreciated

لسانی اکائی۔

لسانیات اکائی ۱

زبان کیا ہے
زبان (لسان) ربط کا ایک ذریعہ جسے معلومات کا تبادلہ کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ معلومات کا تبادلہ تحریری طور پر٬ اشاروں سے ، اشتہارات یا بصری مواد کےزبان استعمال سے ، علامتوں کے استعمال سے یا براہ راست کلام سے ممکن ہیں۔ انسانوں کے علاوہ مختلف جاندار آپس میں تبادلہ معلومات کرتے ہیں مگر زبان سے عموماً وہ نظام لیا جاتا ہے جس کے ذریعے انسان ایک دوسرے سے تبادلۂ معلومات و خیالات کرتے ہیں۔

پروفیسر ابوالکلام زبان کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں کہ
زبان من مانی صوتی علامتوں کا ایک نظام ہے۔ جسکے ذریعہ سماجی گروپ ایک دوسرے سے تعاون کرتا ہے۔

اس تعریف میں نظام سے مراد ۔مرئی اور غیر مرئی اشیاءکا ایک ایسا نظم جسکو دیکھنے کے بعد پتا چلے کہ اس میں کچھ ترتیب ہے۔

لسانیات کیا ہے

زبان کی اگلی کڑی لسانیات ہے ۔ لسانیات عربی کے لفظ لسان سے ماخوذ ہے اسکا مطلب زبان کا علم‘اصطلاح میں لسانیات علم کی وہ قسم ہے جو زبان کی بنیاد‘ اصلیت اور اسکی ماہیت کا مطالعہ کرتی ہے اسکی پیدائش‘ دائرہ کار اور اس میں ردو بدل جیسے مسائل کو زیرِبحث لاتی ہے لسانیات کہلاتی ہے ڈاکٹر حامد اللہ ندوی کچھ یوں رقم طراز ہیں

زبان کے مختلف پہلوؤں کا فنی مطالعہ لسانیات کہلاتا ہے زبان کا یہ فنی مطالعہ دوزمانی بھی

ہوسکتا ہے اور ایک زمانی بھی‘ دوزمانی مطالعے کی حیثیت تاریخی ہوتی ہے جس میں کسی

زبان کی عہد بہ عہد ترقی یا مختلف ادوار میں اسکی نشوونما کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور ایک زمانی

مطالعے کی حیثیت توضیحی ہوتی ہے جس میں ایک خاص وقت یا خاص جگہ میں ایک زبان

جس طرح بولی جاتی ہے اسکا مطالعہ کیا جاتا ہے

پروفیسر ابو الکلام کے نزدیک لسانیات ، زبان کے صوری اور معنوی پہلووں کے سائنسی مطالعے کا نام ہے ۔

صوری آواز ایسی آواز جو ارادۃََ اور بار بار نکالی جاسکے*

جسکے حروف بدلے جاسکتے ہوں اور ساتھ ہی*

آْواز پر معنی ہو یعنی جس میں معنی کا مخفی ہونا ضروری ہے۔ *

اب سیٹی کی آواز ، جانور کی آواز اور ڈکار وغیرہ مذکورہ قیود پر پورا نہیں اترتا لہذا انکو اس تعریف میں شامل نہیں کر سکتے۔ نوٹ۔

لسانیات کی اہمیت

لسانیات ایک سائنس کا درجہ رکھتی ہے اس میں زبان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے جو کچھ انسان بولتا ہے اسکا مطالعہ مقصود ہوتا ہے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں

دی جاتی کہ انسان کو کیسے بولنا چاہئیے لسانیات میں عارضی نتائج کی تصدیق کی جاتی ہے آج زبان ‘انسان کی انفرادی اور سماجی زندگی کی ایسی ضرورت بن چُکی ہے کہ اس کے بغیر انسان کا تصور نہیں کیا جا سکتا یہاں تک کہ تمام علوم زبان ہی کے سہارے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔مولانا محمد حسین آزاد نے زبان کی کیا خوبصورت محاکاتی تعریف بیان کی ہے

وہ اظہار کا وسیلہ کہ متواتر آوازاں کے سلسلے میں ظاہر ہوتا ہے جنہیں تقریر یا سلسلہِ الفاظ

یا بیان یا عبارت کہتے ہیں اسی مضمون کو شاعرانہ لطیفے میں ادا کرتا ہوں کہ زبان(خواہ بیان)

ہوائی سواریاں ہیں جن میں ہمارے خیالات سوار ہو کر دل سے نکلتے ہیں اور کانوں کے رستے

اوروں کے دماغوں میں پہنچتے ہیں۔۔۔ تقریر ہمارے خیالات کی زبانی تصویر ہے

جو آوازکے قلم نے ہوا پر کھینچی ہے

علمِ لسانیات میں صوتیات‘ لغویات‘نحویات اور مارفینیات خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ صوتیات لسانیات کی ایسی قسم ہے جس میں آواز سے متعلق بحث کی جاتی ہے اور اعضائے صوتی یعنی پھپٹڑے‘ حلقوم‘ بلعوم‘ حنجرہ‘ اعصابِ نطقی‘ منہ‘ ناک‘ تالو‘ زبان‘ دانت‘ اور ہونٹ آواز کے اصل سرچشمے تصور کیے جاتے ہیں لغویات یا معنویات سے مراد مطالب اور مفاہیم جاننے کا ہے اس میں الفاظ کو انکے معانی کی مناسبت سے پرکھا جاتا ہے اس میں مرکبِ مترادفی‘ مرکبِ عطفی‘ مرکبِ نحوی‘ مرکبِ فاعلی یا مشتق مرکبات سے لفظوں پر بحث کی جاتی ہے۔ دوسری طرف علمِ نحویات میں کلموں اور ان کی تبدیلیوں‘ جملوں کی ماہیت‘ ان جملوں میں کلموں کی ترتیب‘ مطابقت اور معنوی رشتوں کو موضوعِ بحث بنایا جاتا ہے جبکہ علمِ مارفینیات علمِ گرائمر کی گردان سے متعلق ہے اردو میں اس کے لیے ’’ معنیہ‘‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاری ہے۔ ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور کے بقول

لسانیات اس علم کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے زبان کی ماہیت‘ تشکیل و ارتقاء ،زندگی اور موت کے متعلق آگاہی ہوتی ہے

کوئی بھی مضمون بےفائدہ وبے منفعت نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک کی اہمیت ہے، لہذا لسانیات کے بھی بے شمار فوائد ہیں

ٌاس علم کےذریعہ قائل کے دماغ کے تفاعل تک پہنچا جاسکتا ہے

ٌاسکے علمی اور ادبی پس منظر یعنی اسکے بیک گراوٗنڈ سے واقف ہوا جا سکتا ہے۔

ٌمخففات جو ۳حرف سے زائد ہو اسکو ملاکر پڑھیں گے مثلا ٗ

UNICEF, LASAR, ANSA

اس تحقیق سے ایک مدلل قاعدہ بن گیا لسانیات کی پانچ اہم اقسام یہ ہیں۔

ا۔ صوتیات ب۔معنویات ج۔نحویات د۔ مارفیات(صرفیات) ھ۔فونیمیات

ا۔صوتیات

صوتیات میں زبان میں آوازوں کی ادائیگی کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ آوازیں کیسے پیدا ہوتی ہیں اور ان کی درجہ بندی کس طرح کی جا سکتی ہے

صوتیات لفظ صوت سے نکلا ہے اور صوت سے مراد آواز کے ہیں۔ صوتیات لسانیات کی ایک ایسی صنف ہے جس میں آواز سے متعلق مطالعہ کیا جاتا ہے۔ صوتیات بولنے کی چیز ہے اور اسکا تعلق وترانِ صوت سے ہے۔

صوتیات ۔۔اسے لسانیات کی کلید بھی کہا جاتا ہے۔زبان آوازوں کے علامتی اور تصوراتی نظام کا نام ہے۔ انسانی دہن مختلف قسم کی آوازوں کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔ایک آواز دوسری آوازوں سے مل کر زبانوں کو جنم دیتی ہیں۔صوتیات لسانیات کا وہ علمی شعبہء ہے جس میں انسانی اعضائے تکلم سے پیدا ہونے والی ان آوزوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے جو مختلف زبانوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس مطالعے میں آوازوں کی تشکیل، ادائیگی، ترسیل، نیز آوازوں کی ان کے مخارج اور دیگر اعتبار سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔

تلفظی صوتیات میں ان آوازوں کا مطالعہ جو کلام میں استعمال ہوتی ہیں اس حیثیت سے کیا جاتا ہے کہ وہ کس طرح انسانی آلات الصوت سے پیدا ہوتی ہیں۔

اعضائے اصوات

انسانی آواز کی پیدائش میں مندرجہ ذیل اعضا مل کر صوتی آلات کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ پھیپھڑے۔ حلقوم۔ بلعوم۔ حنضرہ۔ اعصابِ نطقی۔ منہ۔ناک۔ تالو۔ زبان۔ دانت۔ اور ہونٹ وغیرہ۔پھیپھڑے دھونکی کا کام کرتے ہیں اور یہ ہوا کے بہاو کو مطلوبہ دباو یا رفتار سے حلق میں گزرتے ہیں اور ایک تسلسل کو ضرورت کے مطابق قائم رکھتے ہیں۔ آواز کا اصل سرچشمہ حلق ہے۔ جس میں واقع اعصابی ریشے اس ہوا کے دباو سے متاثر ہو کر تھرتھرانے لگتے ہیں جس سے اس ہوا کے دباو سے ایک ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے۔اور لفظ اصوات کی صورت سامنے آتے ہیں۔

ب۔ معنیات

لفظوں اور جملوں کے مطالب اور معانی کا مطالعہ معنیات کہلاتا ہے۔ان مطالب کا زبانوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔لفظ اور معنی کے درمیان کیا رشتہ ہے۔یہ رشتہ منطقی ہے یا علامتی۔ان سب حقائق کا کھوج علم ِ معنیات سے لگایا جاتا ہے۔

لسانیات اگرچہ اردو میں ابھی کم سن علمی شعبہ ہے لیکن اس کے ظہور نے مختصر وقت میں اردو زبان کے حق میں وہ کر دکھایا جو روایتی علم زبان سالہاسال نہ کرسکا۔اردو کی بنیاد، اس کی اصل، اس کی جائے وقوع، ہم سایہ زبانوں کے ساتھ اس کا رشتہ بالخصوص ہندی کے ساتھ اس کا بہناپا وغیرہ وغیرہ یہ اور زبان سے جڑی اہم بنیادی باتیں جو ابھی تک دھندلکے میں تھیں روشن ہوئیں۔

معنیات میں ان طریقوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے جن سے زبان میں معنی سمجھنا مقصود ہو۔

معنیات کا دوسرا نام لغویات ہے ۔معنویات لفظ معنی سے ہے۔ جس سے مراد مفہوم جاننے کا ہے۔ لسانی تغیرات میں معنویات کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ لغوی معنوی تبدیلی کے ذیل میں کلمے کا حوالہ ایک منظم اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔مختلف زبانوں میں الفاظ کا کثرت سے اشتراک یا ان کے درمیان گہری مماثلت اور مطابقت ان میں باہمی لسانی رشتوں کی غمازی کرتی ہیں۔ لیکن الفاظ کا یہی گہرا اشتراک کسی سابق دور میں ان زبانوں کی حامل اقوام کے آباو اجداد کے درمیان گہرے تہذیبی رشتےیا وسیع تجارتی تعلقات کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے،۔ فارسی اور ہنسپانوی میں عربی اور اردو برصغیر کے شمالی حصے کی دیگر زبانوں میں پرتگیزی عناصر کی موجودگی واضع ہے۔

مثالیں۔

وسطی انگریزی کا ماس بدل کر ماوس ہو گیا مگر مدلول وہی رہا۔ سنسکرت میں وردل نے جدید آریائی میں بادل کا بہروپ بھرا مگر معنی میں کوئی فرق نہ آیا۔

زبانوں کی معنویاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں کلموں کے متروک ہوتے رہنے اور نئے کلموں کے جنم لیتے رہنے کے عمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہر زبان کے ارتقائی سفر میں کچھ کلموں کا چلن کم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتے ہیں ۔جیسےمیزان عربی میں ترازو کو کہتے ہیں لیکن اردو مین جمع کے معنی میں مستعمل ہے۔ عمارت کو آبادی کے بجائے بڑے مکان کے معنی دیے۔ غریب لفظ مسافر کے لیے تھا مگر اس کا مفہوم بلکل ہی بدل کیا ہے۔

ج۔ نحویات
کسی زبان میں الفاظ کی مخصوص اور با معنی ترتیب کونحویات کہتے ہیں۔ زبان میں جملوں کی ساخت اور جملوں میں لفظوں کی ترتیب کے قاعدوں کا مطالعہ نحویات کے ذیل میں آتا ہے۔مثلاً( احمد نے کھانا کھایا)۔ یہ اردو نحو کے اعتبار سے الفاظ کی صحیح ترتیب ہے۔اگر اس کے بدلے یوں کہا جائے کہ( کھانا کھایا احمد نے)تو اس کے معنی کی ترسیل پیچیدگی کا باعث بنے گی۔صرف و نحو کو ملاکر زبان کی قواعد کہا جاتا ہے۔

علم نحو کسی زبان کے جملوں کی ساخت اور جملوں میں لفظوں کی ترتیب کے قاعدوں کا مطالعہ ہے۔

رواج پائے ہوئےجملوں کی ساخت اور لفظوں کی ترتیب کے قاعدوں کا مطالعہ نحویات کہلاتا ہے۔

نحویات لفظ نحو سے ہے اس میں معنی و مفہوم کے لحاظ سے کلموں اور ان کی تبدیلیوں ۔ جملوں کی ماہیت۔ ان جملوں میں کلموں کی ترتیب۔ مطابقت اور معنوی رشتوں کو موضوع ِ بحث بناتے ہیں۔کلمے اور کلموں کے گروہ جن سے مکمل ۔ بامعنی کلام ترتیب پاتا ہے یعنی مفرد اور مرکب جملے یہ حصہ علمِ تحو کہلاتا ہے۔اس میں جملوں کی ساخت کلموں کی ترتیب مطابقت اور ان کے باہمی ر شتوں پر منحصر ہوتی ہے ۔ گویا یہ جملے کے تین اصول بیان کرتے ہیں کلماتی ترتیب مطابقت اور نحوی رشتے جملے کا جزو ترکیبی بنبے والا فقرہ کبھی کبھی خود بھی ایک مکمل جملہ ہو جاتا ہے۔

بامعنی کلام یا جملہ ہی پوری بات یا خیال کے ابلاغ کا حق ادا کرتا اور زبان کی غرض و غائیت پوری کرتا ہے جملہ ہی کلام کا وہ بڑے سے بڑا ڈھانچہ ہے جس میں قواعد ی عناصر اور ان کے زمروں کے باہمی تعلق کی بھرپور نمائندگی ہوتی ہے اس بدولت کلمے کے وہ سیاق و سباق سامنے آتے ہیں جن سے معنی کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔ اس کو قواعدی تجزیے کی سب سے بڑی اور ساختیاتی توضیح کی اہم ترین سطح قرار دے سکتے ہیں۔

د۔ مارفیمیات (صرفیات)
صرفیات کو اردو میں مارفیمیات بھی کہتے ہیں۔ یہاں الفاظ کی ساخت، اس کے اصول و قواعد اور اس کے استعمال سے بحث ہوتی ہے۔زبان کی چھوٹی سے چھوٹی بامعنی اکائیوں جیسے الفاظ کی تذکیرو تانیث، ان کی تعداد، حالات و کیفیات، زمانہ اور اضداد وغیرہ کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔

صرف میں کسی زبان میں موجود چھوٹی چھوٹی صرفی اکاییوں کا مطالعہ ہوتا ہے۔ اصل میں یہ لفظ کی سطح تک زبان کا صرفی مطالعه ہے۔

یہ علم گرائمر کی گردان سے تعلق رکھتا ہے۔ لسانیات کی رو سے گرامر بنیادی طور پر ناقابلِ تقسیم معنوی اکائی یا اقل ترین معنوی اکائی سے بحث کرتی ہے۔اس اکائی کو مارفیم کے نام سے تعبیر کیا جایا ہے۔اردو میں اس کے لیے معنیہ کی اصلاح بھی استعمال کی گئی ہے۔ مارفیم کی دو ہیتیں ہیں۔آزاد مارفیم اور پابند مارفیم

آزاد مارفیم خود ایک کلمہ ہے مگر پھر بھی مزید کلمے تشکیل کر سکتی ہے۔ پابند مارفیم کسی نہ کسی اور کم از کم ایک مارفیم کے ساتھ یہ استعمال ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ گرامر ایک ایسا نظام ہے جو معنیوں اور ان کے باہمی رشتوں پر تعمیر کیا جاتا ہے۔آزاد مارفیم خود معنی دیتا ہے مگر پابند مارفیم کسی نہ کسی اور مارفیم سے مل کر کلمہ تشکیل دیتی ہے۔مختلف زبانوں میں معنیوں ۔کلموں اور فقروں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔

آزاد مارفیم کو پانچ تکڑوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔۔

لغوی مارفیم
قواعدی مارفیم
الحاقی مارفیم

نحوی مارفیم

اسلوبیاتی مارفیم

ھ۔ فونیمیات یا علم الصوتیہ Phonemics یہ لسانیات کی دوسری اہم شاخ فونیمیات ہے۔ اس کی بنیاد صوتی اکائی کے تصور پر رکھی گئی ہے جسے صوتیہ یا فونیم Phoneme کہتے ہیں۔ ہم جب بولتے ہیں تو ہمارے منھ سے جو الفاظ نکلتے ہیں وہ مختلف آوازوں کے سلسلے ہوتے ہیں جن میں ایک آواز اپنے آگے پیچھے آنے والی آوازوں سے متاثر ہوتی رہتی ہے

لسانیات کی یہ شاخ، کسی زبان میں کام آنے والی اہم اور تفاعلی آواز کا مطالعہ کرتی ہے۔ایک زبان میں استعمال ہونے والی آوازوں کی تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے لیکن فونیمات کی تعداد محدود اور مقرر ہوتی ہیں۔ اردو میں فونیمات کی صحیح تعداد کے بارے میں بھی علمائے لسانیات کے مابین ذرا سا اختلاف رائے پا یا جاتا ہے۔کوئی ان کی تعداد (۵۸) کوئی(۴۸) اور کوئی(۴۴) قرار دیتا ہے۔ملاحظہ کیجئے: ۱۔اردو کی تعلیم کے لسانیاتی پہلو از: گوپی چند نارنگ ۲۔ خلیل احمد بیگ از: اردو زبان کی تاریخ ۳۔اردو لسانیات کی تاریخ از: درخشاں زریں

بقول پروفیسر ابوالکلام۔کسی بھی مخصوص زبان کی چھوٹی سی چھوٹی تکلمی آواز کو فونیم کہتے ہیں اور اسی تکلمی آواز.، اکائی یا فونیم کا سائنسی مطالعہ فونیمیات کہلاتا ہے
کسی مخصوص زبان کی تکلمی آوازوں کے طرز ہائے اور نظام ہائے کہ سائنسی مطالعے کو بنیادی طور پر فونیمیات کہتے ہیں
علم کی وہ شاخ جس میں ہم مختلف زبانوں میں استعمال ہونے والی اہم اصولی آوازوں کو متعین کرتے ہیں
at November 17, 2018
Share

Introduce Yourself (Example Post)

You’re going to publish a post today. Don’t worry about how your blog I got a very beautiful idea from your site. I want to write what you know is unique. A new thing. A historical building. There are various topics on which I think it is better to write and share. Tourism is historical places, there are travelogues. Archeology is the beautiful colors of the universe that I see with my own eyes. Yes, I write by hand. I am happy to share it. Maybe I can introduce something new to the readers. I write in local journals and groups.looks. Don’t worry if you haven’t given it a name yet, or you’re feeling overwhelmed. Just click the “New Post” button, and tell us why you’re here.

This is an example post, originally published as part of Blogging University. Enroll in one of our ten programs, and start your blog right.

Why do this?

  • Because it gives new readers context. What are you about? Why should they read your blog?
  • Because it will help you focus you own ideas about your blog and what you’d like to do with it.

The post can be short or long, a personal intro to your life or a bloggy mission statement, a manifesto for the future or a simple outline of your the types of things you hope to publish.

To help you get started, here are a few questions:

  • Why are you blogging publicly, rather than keeping a personal journal?
  • What topics do you think you’ll write about?
  • Who would you love to connect with via your blog?
  • If you blog successfully throughout the next year, what would you hope to have accomplished?

You’re not locked into any of this; one of the wonderful things about blogs is how they constantly evolve as we learn, grow, and interact with one another — but it’s good to know where and why you started, and articulating your goals may just give you a few other post ideas.

Can’t think how to get started? Just write the first thing that pops into your head. Anne Lamott, author of a book on writing we love, says that you need to give yourself permission to write a “crappy first draft”. Anne makes a great point — just start writing, and worry about editing it later.

When you’re ready to publish, give your post three to five tags that describe your blog’s focus — writing, photography, fiction, parenting, food, cars, movies, sports, whatever. These tags will help others who care about your topics find you in the Reader. Make sure one of the tags is “zerotohero,” so other new bloggers can find you, too.

Introduce Yourself (Example Post)

This is an example post, originally published as part of Blogging University. Enroll in one of our ten programs, and start your blog right.

Why do this?

  • Because it gives new readers context. What are you about? Why should they read your blog?
  • Because it will help you focus you own ideas about your blog and what you’d like to do with it.

The post can be short or long, a personal intro to your life or a bloggy mission statement, a manifesto for the future or a simple outline of your the types of things you hope to publish.

To help you get started, here are a few questions:

  • Why are you blogging publicly, rather than keeping a personal journal?
  • What topics do you think you’ll write about?
  • Who would you love to connect with via your blog?
  • If you blog successfully throughout the next year, what would you hope to have accomplished?

You’re not locked into any of this; one of the wonderful things about blogs is how they constantly evolve as we learn, grow, and interact with one another — but it’s good to know where and why you started, and articulating your goals may just give you a few other post ideas.

Can’t think how to get started? Just write the first thing that pops into your head. Anne Lamott, author of a book on writing we love, says that you need to give yourself permission to write a “crappy first draft”. Anne makes a great point — just start writing, and worry about editing it later.

When you’re ready to publish, give your post three to five tags that describe your blog’s focus — writing, photography, fiction, parenting, food, cars, movies, sports, whatever. These tags will help others who care about your topics find you in the Reader. Make sure one of the tags is “zerotohero,” so other new bloggers can find you, too.

Introduce Yourself (Example Post)

This is an example post, originally published as part of Blogging University. Enroll in one of our ten programs, and start your blog right.

You’re going to publish a post today. Don’t worry about how your blog looks. Don’t worry if you haven’t given it a name yet, or you’re feeling overwhelmed. Just click the “New Post” button, and tell us why you’re here.

Why do this?

  • Because it gives new readers context. What are you about? Why should they read your blog?
  • Because it will help you focus you own ideas about your blog and what you’d like to do with it.

The post can be short or long, a personal intro to your life or a bloggy mission statement, a manifesto for the future or a simple outline of your the types of things you hope to publish.

To help you get started, here are a few questions:

  • Why are you blogging publicly, rather than keeping a personal journal?
  • What topics do you think you’ll write about?
  • Who would you love to connect with via your blog?
  • If you blog successfully throughout the next year, what would you hope to have accomplished?

You’re not locked into any of this; one of the wonderful things about blogs is how they constantly evolve as we learn, grow, and interact with one another — but it’s good to know where and why you started, and articulating your goals may just give you a few other post ideas.

Can’t think how to get started? Just write the first thing that pops into your head. Anne Lamott, author of a book on writing we love, says that you need to give yourself permission to write a “crappy first draft”. Anne makes a great point — just start writing, and worry about editing it later.

When you’re ready to publish, give your post three to five tags that describe your blog’s focus — writing, photography, fiction, parenting, food, cars, movies, sports, whatever. These tags will help others who care about your topics find you in the Reader. Make sure one of the tags is “zerotohero,” so other new bloggers can find you, too.

Design a site like this with WordPress.com
Get started